دھرنے میں فوج کی ہی ضمانت کیوں؟

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ممتاز قادری کے حامیوں کا دھرنا تین دن سے جاری ہے۔ شہر میں موبائل فون سروسز معطل ہیں اور میٹرو بس سروس بھی بند ہے۔

دھرنے کے شرکا ملک میں شرعی نظام نافذ کرنے اور توہین رسالت کے مقدمے میں ملزمہ آسیہ بی بی کو پھانسی دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اسلام آباد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دھرنا کرنے والوں کی قمست کے بارے میں جب تک سیاسی حکومت کوئی فیصلہ نہیں کرتی، وہ کارروائی نہیں کر سکتے، لیکن سیاسی حکومت کہاں ہے؟ وزارتِ داخلہ کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔

قادری کے حامی دھرنے کے شرکا سیاسی حکومت سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتے۔ سنی تحریک کے سینیئر رہنما ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ فوج کی ضمانت کے بغیر بات نہیں ہو گی۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلام آباد کے ریڈ زون کے ڈی چوک پر دھرنے دینے والے احتجاج تو سیاسی حکومت سے کرتے ہیں لیکن ضمانت انھیں فوج کی چاہیے ہوتی ہے۔

طاہر القادری کے دھرنے میں بھی بار بار فوج کو طلب کیا گیا، جبکہ عمران خان بھی امپائر کی انگلی اُٹھنے کے منتظر رہے۔

پاکستان میں سیاسی حکومت کیا اپنا اعتبار کھو چکی ہے اور ہر بار احتجاج کرنے والے وزیراعظم کے بجائے فوج کی ضمانت کیوں طلب کرتے ہیں؟

سنیئیر تجزیہ کار اور صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایک جانب حکومت ہے تو دوسری جانب عوام اپوزیشن کے بجائے فوج کی جانب دیکھتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اپوزیشن بھی انتخابات میں اپنی طاقت ثابت کرنے کے لیے فوج کے ساتھ راہ ہموار کرتی ہے۔ ایسے میں یہی سوچا جاتا ہے کہ اگر ملک میں تبدیلی لانی ہے یا مطالبات منوانے ہیں تو فوج کو پکارا جائے۔ اُنھی سے ضمانت لی جائے۔‘

پاکستان میں سول ملٹری تعلقات میں توازن نہیں ہے۔ کبھی اقتدار پر فوج کی گرفت بڑھ جاتی ہے تو کبھی سول حکومت کا پلڑا بھاری ہو جاتا ہے۔ ایسے میں بعض عناصر حکومت کو نیچے دکھانے کے لیے بھی احتجاج، لانگ مارچ اور دھرنوں کی راہ اختیار کرتے ہیں۔

حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے سینیٹر لیفیٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے بی بی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے صبر و تحمل اور بردباری سے کام لے رہی ہے اور یہ مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں احتجاج دنیا کے دوسرے ملکوں سے مختلف ہے۔ یہاں احتجاج کرنے والوں کے چہرے کے پیچھے کوئی اور ہوتا ہے۔ وہ کسی اور کی پراکسی ہوتی ہے۔‘

سینیٹر لیفیٹنٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم کے مطابق حکومت کو نیچا دکھانے اور اُس کی تذلیل کے لیے احتجاج کرنے والے فوج کی ضمانت کی باتیں کرتے ہیں۔

’جب ملک میں آمریت ہوتی ہے تو یہ شور مچاتے ہیں کہ جمہوریت نہیں ہے اور جب جمہوریت ہوتی ہے تو فوج کو بلاتے ہیں۔ ان کا مقصد حکومت اور فوج کے درمیان دراڑ ڈالنا ہے۔‘

دارالحکومت کے ریڈ زون کا شمار حساس ترین مقام میں ہوتا ہے اور کوئی عام شہری آسانی سے ریڈ زون میں داخل نہیں ہو پاتا لیکن دوسری جانب ہر بار مظاہرین تمام حفاظتی حصار کو توڑ کر اسی علاقے میں ڈیرے ڈال لیتے ہیں۔

تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے مطابق ریڈ زون میں پہلے کسی کو احتجاج کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی لیکن سیاسی جماعتوں نے خود یہاں احتجاج کرنے کی روایت ڈالی ہے۔

’ریڈ زون پہلے بند دروازہ ہوا کرتا تھا لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ یہ بند دروازے کھل گئے ہیں۔ جماعت اسلامی نے بھی ریڈ زون میں دھرنا دیا۔ نواز شریف نے اسلام آباد کے لانگ مارچ کی کال دی۔ عمران خان بھی ڈی چوک پر احتجاج کرتے رہے۔ لوگوں کی اب جھجھک ختم ہو گئی ہے۔ لیکن حکومت کو اب اس حوالے سے کوئی حکمتِ عملی طے کرنا ہو گی۔‘

حکومت کی جانب سے دھرنے کے شرکا کو منتشر کرنے یا ریڈ زون خالی کروانے کے بارے میں کوئی لائحہ عمل دکھائی نہیں دے رہا۔ صرف اتنا ہوا ہے کہ اسلام آباد کی انتظامیہ کے مطابق انھوں نے دھرنے کے افراد کے لیے خوراک، پانی اور دوائیوں کی ترسیل روک دی ہے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق حکومتوں کے لیے بعض اوقات کسی حکمتِ عملی پر کام کرنے بھی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’نو سٹرٹیجی سیاسی حکومتوں کے لیے بڑی کارگر ثابت ہوئی۔ آصف زردای نے طاہر القادری کے دھرنے میں اور نواز شریف نے تحریک انصاف کے دھرنے میں یہی حکمتِ عملی اپنائی۔‘

اُن کے مطابق ’ایسے میں ریاست کی رِٹ تو کمزور ہوتی ہے لیکن تشدد کا ردعمل زیادہ شدید آتا ہے۔‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جب تک سول حکومت اور ملٹری توازن قائم نہیں ہوتا اس وقت تک عوام حکومت کے متبادل کے طور پر ہمیشہ فوج کو دیکھے گی۔ یہ تبھی ممکن ہے کہ جب فوج سیاست سے دور ہو کر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرے اور سیاسی حکومتیں عوام کا اعتماد بحال کریں۔

اسی بارے میں