پشاور میں سات دہائیوں کےبعدگردوارہ کھول دیا گیا

Image caption بھائی بیبا سنگھ گوردوارہ 1940 کی دہائی میں بند کر دیا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں بدھ کو سات دھائیوں سے بندگردوارہ بحالی کے بعد دوبارہ عبادت کے لیے کھول دیاگیا ہے۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں تعمیر ہونے والےگوردوارے کو بحالی کے بعد اس میں سکھوں نے باقاعدہ عبادت کی۔

* پشاور میں سکھوں کا گردوارہ دوبارہ کھولنے کی اجازت

گذشتہ چند سالوں کے دوران قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں خیبر، کرم اور اورکزئی ایجنسی سے بڑی تعداد میں سکھ نقل مکانی کرکے پشاور میں آباد ہوگئے ہیں جس سے پشاور میں ان کی آبادی اب ایک ہزار خاندانوں سے تجاوز کرگئی ہے۔

بھائی بیبا سنگھ گردوارہ 1940 کی دہائی میں بند کر دیا گیا تھا۔سکھ رہنما کہتے ہیں کہ جب پاکستان بنا تو بڑی تعداد میں سکھ ہندوستان کی جانب چلےگئے اور یہ اورگردوارہ بند کر دیاگیا تھا ۔

سورن سنگھ سکھ برادری کے رہنما ہیں اور اس وقت تحریک انصاف کی حکومت میں وزیراعلیٰ کے اقلیتوں کے امور کے مشیر بھی تعینات ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ گردوارہ رنجیت سنگھ کے دور میں تعمیر کیاگیا تھا اور یہ دور 1840کے لگ بھگ ہوگا۔

سورن سنگھ کا کہنا تھا کہ پشاور میں اب سکھوں کی تعداد ایک ہزار خاندانوں سے تجاوز کر گئی ہے اور اس سے پہلے ان کا صرف ایک چھوٹا گردوارہ تھا ۔ انھوں نے اس گوردوارے کو کھولنے کے فیصلے پر نہ صرف حکومت کا بلکہ مقامی لوگوں کا بھی شکریہ ادا کیا ۔

پاکستان کے قبائلی علاقے جیسے خیبر ایجنسی ، کرم اور اورکزئی ایجنسی میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں سکھ نقل مکانی کرکے پشاور میں آباد ہو چکے ہیں ۔ پشاور میں سکھ تجارت سے وابستہ ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد اس عمارت میں خواتین کا دستکاری مرکز قائم کر دیاگیا تھا۔اس مرکز کی پہلی پرنسپل شفقت آرا خاتون تھیں جو آج بھی حیات ہیں اور اسی گوردارے میں رہائش پذیر ہیں۔ اس گوردوارے میں انھیں علیحدہ حصہ دیا گیا ہے جہاں وہ رہائش پذیر ہیں۔

چند ماہ پہلے شفقت آرا نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس ووکیشنل سینٹر سے بڑی تعداد میں خواتین فنی تعلیم حاصل کر چکی ہیں۔

آج اس گوردوارے کے باقاعدہ افتتاح کے موقعے پر وفاقی حکومت کی جانب سے چیئرمین وقف املاک بورڈ صدیق الفاروق موجود تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نواز حکومت کی پالیسی ہے کہ اقلیتوں کو ان کے تمام حقوق دیے جائیں۔

Image caption گوردوارہ رنجیت سنگھ کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور یہ دور 1840کے لگ بھگ تھا

انھوں نے کہا کہ یہ پشاور آنے سے پہلے انھوں نے حسن ابدال میں سکھوں اور ہندوؤں کےلیے دو سو کنال کا ایک پلاٹ شمشان گھاٹ کےلیے وقف کر دیا ہے۔

گوردوارے میں بزرگوں کے علاوہ خواتین اور بچے میں بڑی تعداد میں موجود تھے۔ایک خاتون پریا کور نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے گھروں میں عبادت کرتے تھے اور اتنی سنگت آ جاتی تھی کہ ادھر جگہ کم پڑ جاتی تھی اب انھیں ایک بڑا گردوارہ مل گیا ہے جس سے انھیں اب عبادت کرنے میں آسانی ہوگی۔

اس گوردوارے کو کھولنے کا فیصلہ چند ماہ پہلے کیا گیا تھا لیکن مقامی لوگوں کو خدشات لاحق تھے جس وجہ سے اس کے افتتاح میں تاخیر ہوئی ہے۔ یہ گردوارہ اندرون پشاور شہر کے تاریخی علاقے ہشتنگری گیٹ کے قریب واقع ہے اور اس کے ساتھ مسجد اور مسلمانوں کی آبادی ہے۔

اسی بارے میں