سرکاری اشتہار میں دہشت گرد دکھانے پر اداکار پریشان

Image caption حمید شیخ نے2015 کی فلم مور میں بھی کردار ادا کیا، جو آسکر ایوارڈز کے لیے پاکستان کی نمائندہ فلم تھی

حکومتِ پاکستان شدت پسندی کے خلاف آگاہی کی مہم چلا رہی ہے لیکن اس مثبت مہم سے ایک اداکار بھی متاثر ہوئے ہیں۔

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے اداکار حمید شیخ کو ان کی اجازت کے بغیر دہشت گردی کے خلاف سرکاری اشتہار میں دہشت گرد ظاہر کیا گیا ہے۔

کوئٹہ کے رہائشی حمید شیخ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ چند روز پہلے انھیں اداکار دوست ساجد حسن نے میسج کیا کہ نجی ٹی وی چینلوں پر ایک اشتہار چل رہا ہے جس میں انھیں غلط روپ میں دکھایا گیا ہے۔

’ساجد حسن نے میرے ساتھ عبداللہ نام کی فلم کی تھی اور انھوں نے کہا کہ اشتہار میں اسی فلم کے کلپ استعمال کیے گئے ہیں۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ نے فلم کے حقوق دیے ہیں؟ اگر آپ کی اجازت کے بغیر چلایا جا رہا ہے، آپ انھیں روکیں کیونکہ آپ کا بہت برا امیج بن رہا ہے۔‘

یہ اشتہار حکومتِ پاکستان کی جانب سے کئی چینلوں پر چل رہا ہے جس میں اسلام کو ایک پرامن دین بتایا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ دہشت گردی اور فساد پھیلانے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ جہاں وائس اوور میں فساد پھیلانے والوں کی بات ہوتی ہے، حمید شیخ کی فوٹیج چلتی ہے۔

حمید شیخ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ 30 سال سے اداکاری کر رہے ہیں، نہ صرف ٹی وی کے ڈراموں میں بلکہ انھوں نے برطانوی فلموں میں بھی کام کیا ہے۔

حمید شیخ نے2015 کی فلم مور میں بھی کردار ادا کیا، جو آسکر ایوارڈ کے لیے پاکستان کی نمائندہ فلم تھی۔

’جو عزت میں نے کمائی ہے، بہت محنت سے کمائی ہے اور کوئٹہ اور بلوچستان کے لوگوں کو تھوڑی بہت عزت بڑی مشکل سے ملتی ہے۔ بغیر پوچھے چند منٹ میں بےعزت ہو جاتے ہیں اور سب اڑ جاتا ہے۔‘

حمید شیخ نے مزید بتایا کہ وہ اس وقت اپنے گھر میں ڈر کے مارے بند ہیں۔

’انہوں نے اتنے آرام سے مجھے دہشت گرد کے طور پر ظاہر کر دیا۔ جب مجھے ایمبولینس اور پولیس کی آواز آتی ہے تو میں خوفزدہ ہوتا ہوں کہ مجھے کوئی پکڑنے نہ آ رہا ہو۔‘

حمید شیخ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے وکیل کے ذریعے پیمرا، وزارتِ نشریات اور دیگر متعلقہ سرکاری محکموں کو نوٹس بھیج رہے ہیں۔’اس طرح اداکارہ عتیقہ اوڈھو کے ساتھ بھی اس سے پہلے ہوا تھا اور وہ جیت گئی تھیں۔ میں ان سے مشورہ کر کے کارروائی کروں گا۔‘

اسی بارے میں