بلوچستان: چار ماہ میں 92 عسکریت پسند’ ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گذشتہ چار ماہ کے دوران 417 ٹارگٹڈ آپریشنز میں حکام نے 92 مبینہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ان کاروائیوں کے دوران سکیورٹی اداروں کے 22 سے زائد اہلکار ہلاک اور 65 زخمی بھی ہوئے۔

اس بات کا انکشاف بلوچستان کے وزیرِ داخلہ میر سرفراز بگٹی نے صوبائی حکومت کے ترجمان انوارالحق کاکڑ اور فرنٹیئر کور کے ڈی آئی جی ایف سی بریگیڈیئر طاہر محمود کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

صوبائی وزیر داخلہ نے بتایا کہ فرنٹیئر کور بلوچستان اور حساس اداروں کے یکم دسمبر 2015 سے لے کر اب تک ٹارگٹڈ آپریشنوں میں دو اہم کمانڈروں سمیت 92 مبینہ عسکریت پسند مارے گئے۔

انھوں نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران 1,844 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔

ان آپریشنز کے دوران مختلف اقسام کے820 چھوٹے بڑے ہتھیار اور10,727 کلو گرام دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔

سرفراز بگٹی نے بتایا کہ اس دوران ایف سی کے 22 جوان ہلاک اور65 زخمی ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف جاری آپریشن فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور شدت پسند تنظیموں کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔

سیکورٹی افواج کی کاروائیوں کے حوالے سے وقتاً فوقتاً بعض قوم پرست جماعتوں کے بیانات بھی آتے رہے ہیں جن میں ان کاروائیوں میں مارے جانے والے افراد کی ایک بڑی تعداد کو عسکریت پسند قرار دیے جانے کے دعوے کو مسترد کیا جاتا رہا ہے۔

اسی طرح گرفتار افراد کی کالعدم تنظیموں سے تعلق کے دعوے کو بھی مسترد کیا جاتا رہا ہے۔

اسی بارے میں