خضدار میں عسکریت پسند نہیں، پارٹی کارکن مارے گئے: بی این پی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی قوم پرست جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) نے کہا ہے کہ صوبے کے ضلع خضدار میں مارے جانے والے دو افراد عسکریت پسند نہیں بلکہ پارٹی کے کارکن تھے۔

کوئٹہ میں سینچر کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ نے کہا کہ ان دونوں افراد کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کے بعد مارا گیا۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ سکیورٹی فورسز نے سارونہ کے علاقے سے پارٹی سے تعلق رکھنے والے تین کارکنوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا۔

انھوں نے بتایا کہ ان میں سے دو کارکنوں حکیم اور احمد کو جمعے کے روز دورانِ حراست مارا گیا جبکہ تیسرا کارکن ابھی تک سکیورٹی فورسز کی تحویل میں ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہفتے کے روز شاہ نورانی کے علاقے سے پارٹی کے مزید چار کارکنوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔

آغا حسن نے کہا کہ بلوچستان میں عملاً سکیورٹی فورسز کی حکمرانی قائم ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما کے دعوے کے برعکس سرکاری حکام کا کہنا ہے مارے جانے والے افراد عسکریت پسند تھے۔

گذشتہ روز فرنٹیئر کور کے ترجمان کی جانب سے سارونہ میں ان افراد کے بارے میں میڈیا کو جو معلومات فراہم کی گئی تھیں ان کے مطابق مارے جانے والوں کا تعلق کالعدم عسکریت پسند تنظیم لشکر بلوچستان سے تھا۔

ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ لوگ سکیورٹی فورسز سے فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے اور ان سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں