اورکزئی: کوئلے کی کان میں دھماکہ، پانچ مزدور ہلاک

Image caption حکام کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ دھماکہ کوئلے کی کان کے اندر گیس بھر جانے سے ہوا

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں کوئلے کی ایک کان میں ہونے والے دھماکے میں پانچ مزدور ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ دھماکہ اورکزئی ایجنسی کے علاقے کلایہ کے جنوب مشرق میں دس کلومیٹر دور کوریز میں ہوا۔

حکام کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ دھماکہ کوئلے کی کان کے اندر گیس بھر جانے سے ہوا۔

اس دھماکے کے نتیجے میں کوئلے کی کان کے اندر پھنس جانے والے افراد کو باہر نکالنے کے لیے پولیٹکل انتظامیہ اور فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے مشترکہ کوششیں کی ہیں۔

اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ عزیزاللہ جان نے بی بی سی کو بتایا کہ انتظامیہ نے کوئلے کی کان کے مالک مینجر اور ٹھیکیداروں کو گرفتار کر لیا ہے۔

کوئلے کی یہ کانیں چاہے قبائلی علاقوں میں ہوں یا بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں ان میں کام کرنے والے بیشتر غریب لوگ ہوتے ہیں جو بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے ان اندھیروں میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق گذشتہ ماہ کوئلے کی کان کے حادثے کے بعد مقامی سطح پر یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ جب تک اس بارے میں تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں تب تک کوئلے کی تمام کانوں میں کام بند رہے گا۔

اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ کوئلے کی کان کے مالک کا موقف یہ ہے کہ مزدور ضروری مرمت کے لیے کان میں کام کر رہے تھے۔ پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق اس بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ بھی اورکزئی ایجنسی میں کوئلے کی ایک کان بیٹھ گئی تھی جس میں سات کان کن ہلاک اور دس زخمی ہو گئے تھے۔ کوئلے کی یہ کان ڈولی کے علاقے میں تھی۔

اورکزئی ایجنسی میں پہلے بھی کوئلے کی کانوں میں حادثات ہوتے رہے ہیں۔

پہاڑی علاقوں میں واقع کوئلے کی ان کانوں میں حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں جس کے باعث اکثر اوقات قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں۔

کوئلے کی ان کانوں میں کام کرنے والے بیشتر مزدوروں کا تعلق شانگلہ اور سوات کے علاقوں سے ہے جو انتہائی غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں