ہمیں کوئی خاطر میں نہیں لا رہا تھا

ورلڈ ٹی20 کا فائنل جیتنے کے بعد ویسٹ انڈیز کے فاتح کپتان ڈیرن سیمی نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کا رویہ توہین آمیز رہا ہے اور میچ سے پہلے وزیرِ اعظم نے ہماری ہمت بندھائی لیکن بورڈ نے کسی قسم کا رابطہ کرنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی۔

میچ کے بعد ہر طرح کے حالات میں پرسکون رہنے والے اور گاہے بگاہے سو واٹ کی مسکراہٹیں بکھیرنے والے ڈیرن سیمی انگلینڈ کو ڈرامائی شکست دینے کے بعد سیمی کی جذباتی تقریر سب کو متاثر کر گئی جس میں انھوں نے کسی قسم کی لگی لپٹی رکھے بغیر اپنا دل کھول کر رکھ دیا۔

سیمی نے کہا کہ ہمیں کوئی خاطر میں نہیں لا رہا تھا، لیکن ہر میچ میں ہمارے کسی نہ کسی کھلاڑی نے آگے بڑھ کر کارکردگی پیش کی۔‘

ڈیرن سیمی پاکستان سپر لیگ کی ٹیم پشاور زلمی کی طرف سے بھی کھیلتے ہیں اس لیے وہ پاکستان میں بھی خاصے مقبول ہیں۔ ٹوئٹر پر بعض لوگوں نے انھیں ’سیمی خان‘ کہہ کر مخاطب کیا۔

’خدا کا شکر ہے‘

سیمی نے ٹورنمنٹ جیتنے پر سب سے پہلے خدا کا شکریہ ادا کیا۔ عام طور پر صرف پاکستانی کھلاڑی ہی ایسا کرتے ہیں۔ لیکن ڈیرن سیمی ان سے بھی ایک ہاتھ آگے چلے گئے اور انھوں نے کہا کہ ہماری پوری ٹیم ہی دعا مانگنے والی ٹیم ہے اور یہی نہیں بلکہ ہمارے ساتھ آندرے فلیچر ہیں جو پادری ہیں اور وہ ہمارے لیے دعا کرتے رہتے ہیں۔

فائنل کے آخری اوور میں بریتھویٹ کے چار لگاتار چھکوں کی مدد سے انگلینڈ کو ہرانے کے بعد کپتان ڈیرن سیمی نے کہا کہ ’جب ہم نے اس سفر کا آغاز کیا تو لوگوں کو یہ تک یقین نہیں تھا کہ ہم یہ ٹورنامنٹ کھیل پائیں گے۔ ہم بہت سے مسائل کا شکار تھے، ہمیں محسوس ہو رہا تھا کہ خود ہمارا اپنا بورڈ ہماری توہین کر رہا ہے۔ مارک نکولس (کمنٹیٹر) نے کہا کہ ہماری ٹیم کا دماغ ہی نہیں ہے۔ ٹورنامنٹ سے پہلے ان سب باتوں نے ہمیں اور متحد کر دیا۔‘

سیمی نے کہا کہ ٹورنامنٹ سے پہلے ’جب ہم دبئی پہنچے تو ہمارے پاس وردیاں تک نہیں تھیں۔ ہمارے مینیجر رال لیوس کو کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے بڑی مشکل سے ہمارے لیے وردیاں تیار کروائیں۔ ‘

سیمی نے خاص طور پر ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے وزیرِ اعظم کیتھ مچل نے آج صبح ای میل کے ذریعے ہماری ہمت بندھائی لیکن بورڈ نے ابھی تک کسی قسم کا رابطہ نہیں کیا۔ یہ بہت مایوس کن بات ہے۔‘

ہمارے وزیرِ اعظم کیتھ مچل نے آج صبح ای میل کے ذریعے ہماری ہمت بندھائی لیکن بورڈ نے ابھی تک کسی قسم کا رابطہ نہیں کیا۔ یہ بہت مایوس کن بات ہے۔ڈیرن سیمی

سیمی اپنے مستقبل کے بارے میں بھی خاصے مایوس نظر آئے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں نہیں جانتا کہ مجھے دوبارہ ان کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا موقع کب ملے گا، کیوں کہ ہمیں ایک روزہ میچوں میں منتخب نہیں کیا جاتا۔ ہمیں یہ تک پتہ نہیں کہ آیا ہم آئندہ ٹی20 کھیل سکیں گے یا نہیں۔‘

اس سے قبل 2012 میں جب ویسٹ انڈیز نے سری لنکا میں منعقد ہونے والا ورلڈ ٹی20 ٹورنامنٹ جیتا تو اس کے کپتان بھی ڈیرن سیمی ہی تھے۔ تاہم بعد میں ان کے اور ٹیم کے دوسرے کھلاڑیوں کے بورڈ سے شدید اختلافات رہے ہیں اور انھیں سکواڈ سے ڈراپ کیا جاتا رہا ہے۔

انڈین کرکٹ کمنٹیٹر ہارشا بھوگلے نے سیمی کی تقریر کے بعد ٹویٹ کی کہ ’میں نے آج تک فتح کے چبوترے پر ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی۔ یقیناً انھیں سخت تکلیف رہی ہو گی۔‘

ایک اور ٹوئٹر صارف عواب علوی نے کہا: ’سیمی نے ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ میں چھید کر دیا ہے۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ ان کی ٹیم نے مشکل حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔‘

فہد کیہر نے کہا کہ ’پاکستان کرکٹ میں مسائل کا رونا رونے والے یہ تقریر سنیں۔‘

ورلڈ ٹی20 میں پاکستان کے کپتان شاہد آفریدی اور سابق وکٹ کیپر کامران اکمل نے بھی ٹوئٹر کا سہارا لیتے ہوئے سیمی کو مبارک باد پیش کی۔