پارلیمنٹ میں پاناما پیپرز پر بحث کرنے کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیراعظم کے اہلِ خانہ کے نام آنے سے بہت سے اخلاقی، قانونی اور آئینی سوالات نے جنم لیا ہے: پی ٹی آئی

پاکستان کی دو سیاسی جماعتوں نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں معمول کی کارروائی روک کر پاناما پیپرز میں شائع ہونے والے انکشافات پر بحث کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا کی خفیہ دستاویزات افشا ہونے سے پتہ چلا ہے کہ دنیا بھر میں چوٹی کے امیر اور طاقتور لوگ اپنی دولت کیسے چھپاتے ہیں تاکہ انھیں ٹیکس سے چھوٹ مل سکے۔

پاناما لیکس میں پاکستان کے کئی ایسے سیاستدانوں اور اہم شخصیات کے نام ہیں جو کالا دھن سفید کرنے اور ٹیکس بچانے کے لیے آف شور کمپنیاں بناتے رہے ہیں۔ تاہم اس سلسلے میں سب سے زیادہ تنقید وزیر اعظم اور ان کے خاندان پر ہی کی جا رہی ہے۔

’تازہ لہر کو حوب سمجھتا ہوں‘

بدھ کو پاکستان تحریکِ انصاف نے قومی اسمبلی میں تحریک التوا جمع کروائی تھی۔ جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ معمول کی کارروائی روک کر وزیراعظم اور ان کے اہلِخانہ کے بیرون ملک کارروبار کے حوالے پاناما لیکس کے انکشافات پر پارلیمان میں بحث کارروائی جائے۔

’وزیراعظم کے اہلِ خانہ کے نام آنے سے بہت سے اخلاقی، قانونی اور آئینی سوالات نے جنم لیا ہے۔‘

دوسری جانب پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی اتحادی پارٹی جماعتِ اسلامی نے بھی سینٹ میں تحریک التوا جمع کروائی ہے۔

جماعتِ اسلامی کا مطالبہ ہے کہ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کمپنیاں ٹیکس سے بچنے کے لیے قائم کی جاتی ہے۔ کہا گیا ہے کہ آئس لینڈ کے وزیراعظم مستعفیٰ ہو گئے ہیں اور دیگر ممالک میں اپنے سربراہان کے حلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں اس لیے ’ایوان کی معمول کی کارروائی روک کر اس انتہائی اہم اور حساس معاملے کو زیرِ بحث لایا جائے۔‘

ادھر صوبہ پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں حزب اپوزیشن کو اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ارکان کی طرف سے شدید احتجاج کے بعد اجلاس سے علامتی واک آؤٹ کیاگیا۔

تاہم لاہور ہائیکورٹ میں بھی کالا دھن چھپانے سے متعلق درخواست سماعت کے لیے منظور کی گئی۔

اسی بارے میں