کوہستان: ’ریسکیو آپریشن میں حکومتی عدم دلچسپی‘

تصویر کے کاپی رائٹ PDMA
Image caption اتھورہ باڑی کا پوراگاؤں پہاڑی تودے تلے دب کر رہ گیا ہے جو 19 مکانات پر مشتمل تھا

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں پہاڑی تودے کی زد میں آنے والے 23 افراد کو دبے ہوئے چار دن پورے ہوگئے ہیں لیکن ابھی تک ان کو نکالنے کےلیے کوئی باقاعدہ ریسکیو آپریشن شروع نہیں کیا جاسکا ہے۔

کوہستان سے مسلم لیگ نون کے رکن خیبر پختونخوا اسمبلی عبدالستار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں اور ادارے دبے افراد کو نکالنے کےلیے کوئی دلچسپی نہیں لے رہے۔ انھوں نے کہا کہ سرکاری ادارے انتہائی غفلت کا مظاہرہ کررہے ہیں جس سے متاثرہ خاندان انتہائی مایوسی کا شکار ہوگئے ہیں۔

ان کے بقول ’میں چیخ رہا ہوں کہ ہیلی کاپٹر سروس فراہم کی جائےکیونکہ اس کے بغیر ریسکیو آپریشن کامیاب نہیں ہوسکتا اوراس سلسلے میں تمام اداروں کو تحریری درخواستیں بھی دے چکا ہوں لیکن تین دنوں میں کسی ادارے کی جانب سے رابطہ کرنے کی زحمت تک گوارہ نہیں کی گئی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ چار دنوں سے لوگوں کو اس دھوکے میں رکھا گیا کہ امدادی کاروائیوں کےلیے جلد ہی ہیلی کاپٹر سروس کا آغاز کردیا جائے گا لیکن کبھی ایک بہانہ بنایا جاتا ہے اور کبھی دوسرا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PDMA

ان کے مطابق متاثرہ علاقے تک جانے کےلیے کوئی راستہ نہیں بچا ہے کیونکہ حالیہ شدید بارشوں سے تمام سڑکیں پانی میں بہہ چکے ہیں اور لوگوں کو وہاں تک جانے میں کئی گھنٹے لگ رہے ہیں جبکہ ایسے میں وہاں تک بھاری مشنری اور دیگر سازوسامان لے جانا ناممکن ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ کوہستان میں اس سے پہلے بھی بڑے بڑے قدرتی آفات آئے رہے ہیں لیکن حکومتی اداروں کی طرف سے اتنی غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔

کوہستانی کے ایک مقامی صحافی شمس الرحمان کوہستانی کا کہنا ہے کہ اتھورہ باڑی کا پوراگاؤں پہاڑی تودے تلے دب کر رہ گیا ہے جو 19 مکانات پر مشتمل تھا۔ انھوں نے کہا کہ اتنا بڑا ملبہ کوئی ایک دو ٹیمیں نہیں ہٹا سکتی بلکہ اس کےلیے ہنگامی بنیادوں پر وسیع پیمانے پر اقدامات کی ضرورت ہے۔

ان کے مطابق جب تک ہیلی کاپٹر سروس شروع نہیں کی جاتی اس وقت تک دبے افراد کو نکالنا ناممکن لگ رہا ہے۔

اسی بارے میں