پاناما پیپرز ’سوال اخلاقیات کا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ PML N

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے پاناما پیپرز کے نتیجے میں لگنے والے الزامات کی اصل حقیقت کو جاننے کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دینے کے فیصلے پر سیاسی جماعتوں نے ملا جلا ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم کی تقریر پر تنقید کی اور اُن کی جانب سے تقریر کے دوران کہی جانے والی مختلف باتوں کو مسترد کیا جو ان کے نانا اور والدہ کے حوالے سے کی گئی تھیں۔

اس کےعلاوہ پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عارف علوی نے ٹویٹ کی کہ ’کمیشن جو صرف ایک جج پر مشتمل ہو گا جو وزیراعظم کی مرضی کا ہو گا قابلِ قبول نہیں ہے۔ کیا انہیں نیب یا ایف آئی اے کے ذریعے تحقیقات نہیں کی جا سکتی۔ یہ صرف چشم پوشی ہے لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے۔ شریفوں نے یہ گُر زرداری سے سیکھا ہے۔ کیا ہمیں یاد نہیں اقوامِ متحدہ کا تحقیقاتی کمیشن بینظیر بھٹو کے قتل پر؟‘

پی ٹی آئی کے نعیم الحق نے لکھا کہ ’وزیراعظم نے یہ واضح نہیں کیا کہ کمیشن کے جج وہ مقرر کریں گے یا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس۔‘

پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے کہا کہ ’شریف خاندان کے مالیاتی معاملات فورینزک آڈٹ کروانا چاہیے۔ یہاں سوال اخلاقیات کا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ناقدین سوال کرتے ہیں کہ آخر کیسے حکومت عالمی کاورباری شخصیات کو ملک میں کاروبار کے لیے مدعو کرتی ہے جبکہ وزیرِ اعظم کے اپنے بچے سرِعام تسلیم کر رہے ہیں کہ انھوں نے اپنا سرمایہ بیرونِ ملک لگا رکھا ہے۔‘

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے ٹویٹ کی کہ ’جوڈیشل کمیشن میں سپریم کورٹ کے تین جج ہونے چاہیں اور اس کے سربراہ چیف جسٹس خود ہوں جو پاناما لیکس کی تحقیقات کریں۔ اگر الزامات ثابت ہوں تو وزیراعظم کو آرٹیکل 62 کے تحت نااہل قرار دے دیا جائے۔‘

اسی بارے میں