’کلبھوشن تک قونصلر رسائی پر غور‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان نے کہا ہے کہ پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات کے لیے بھارت جانے والی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا ہے مگر بھارتی سکیورٹی سے منسلک چشم دید گواہوں کو کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیاگیا۔

اسلام آباد میں جمعرات کو پریس بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریہ نے کہا ’پاکستانی تحقیقاتی ٹیم پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات کے لیے انڈین دورے پر گئی۔ تحقیقاتی ٹیم نے 27 مارچ سے یکم اپریل تک بھارت میں قیام کیا۔ تحقیقات کے دوران گواہوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیےگیے مگر ان گواہوں کو پیش نہیں کیاگیا جن کا تعلق بھارتی سکیورٹی فورسز سے ہے۔‘

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا ’ابھی واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور اس سلسلے میں مزید تفصیلات وزارت داخلہ جاری کرے گئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سیکریٹری خارجہ کی ملاقات کے لیے پاکستان اور بھارت رابطے میں ہیں اور اس سلسلے میں طریقہ کار واضح کیا جا رہا ہے۔ بھارتی سیکریٹری خارجہ نے بھی اس بات تائید کی ہے اور بات چیت کے علاوہ مسئلے کا کوئی حل نہیں۔

دفتر خارجہ کی ترجمان نفیس زکریہ نے کہا بھارتی کونسلر کی جانب سے پاکستان میں قید مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو تک وکلا کی رسائی کی درخواست پر 2008 کے قونصلر معاہدے کے تحت غور کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ others

ان کا کہنا ہے کہ مبینہ بھارتی جاسوس کے اعتراف جرم پر اس کے گروہ کے باقی افراد کی گرفتاریاں بھی ہو رہی ہیں۔

دفتر خارجہ نے ایرانی صدر کے دورے سے متعلق کہا کا ان کا دورہ پاکستان مثبت رہا اور بھارتی جاسوس کی گرفتاری اور ایرانی صدر کا دورہ محض ایک اتفاق ہے۔ ایران اور پاکستان کے برادارانہ تعلقات ہیں اور دونوں ملک توانائی اورسکیورٹی کے شبعے میں تعاون کر رہے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے پاناما لیکس پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا معاملہ ان کے دائرے کار سے باہر ہے۔

امریکی صدر کے پاکستان اور بھارت کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق بیان پر پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا پاکستان جوہری ہتھیاروں کی ریس میں نہیں پڑنا چاہتا اور پاکستان اور بھارت کو معاشی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔

’بھارت میں سمجھوتہ ایکسپریس کے حادثے میں 48 پاکستانیوں کو قتل کیا گیا۔ اس حملے کا مسٹر مائنڈ آر ایس ایس کا ایجنٹ ضمانت پر ہے اور بھارت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ تحقیقات پاکستان کے ساتھ شیئر کرے گا مگر ہم ابھی تک انتظار کر رہے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت میں قید پوری کرنے والے پاکستانیوں کے معاملے کو بھی بھارت کے ساتھ اٹھایا گیا ہے۔

اسی بارے میں