کوئٹہ میں ڈاکٹروں کے احتجاج میں 10 زخمی، 20 گرفتار

Image caption ینگ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ جب تک ان کے مطالبات منظور نہیں ہوتے احتجاج جاری رہے گا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس نے احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کو منتشرکر نے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کے علاوہ ان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

ینگ ڈاکٹرز اپنے مطالبات کے حق میں بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاج کرنے چاہتے تھے لیکن پولیس نے ان کو اسمبلی کی جانب جانے کی اجازت نہیں دی۔

اجازت نہ ملنے پر ینگ ڈاکٹروں نے انسکمب روڈ پر میٹرو آفس کے سامنے دھرنا دیا۔

پولیس نے ڈاکٹروں کو منتشر کرنے کے لیے آ نسو گیس کی شیلنگ کے علاوہ لاٹھی چارج کیا۔

اس موقع پولیس کے اہلکاروں نے ڈاکٹروں کو تشدد کا بھی نشانہ بنایا۔

ینگ ڈا کٹر ایسوسی ایشن کے صدر حفیظ اللہ نے میڈیا کے نمائندوں کو بتا یا کہ پولیس کے تشدد سے 10 ڈاکٹر زخمی ہوئے جبکہ 20 کوگرفتار کیا گیا۔

اس واقعہ کے بعد ینگ ڈا کٹرز ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس منعقد ہواجس میں بلوچستان کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز بند کر نے کا اعلان کیا گیا۔

ینگ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ جب تک ان کے مطالبات منظور نہیں ہوتے اور ان کے گرفتار ساتھیوں کو رہا نہیں کر دیا جاتا ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹروں کے جلوس پر شیلنگ کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ اور پولیس سے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعلیٰ کی ہدایت پر واقعہ کی تحقیقات کے لیے صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کی سربراہی میں قائم کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بھی منعقد ہوا۔

کمیٹی نے شدید زخمی ہونے والے ڈاکٹراسد اللہ کو فوری طور پر کراچی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

ینگ ڈاکٹرز تنخواہوں میں اضافے، سرکاری ہسپتالوں میں نئے ڈاکٹرز کے لیے زیادہ آسامیاں، رہائش گاہوں کی فراہمی اور مستقل بنیادوں پر بھرتی کے مطالبات کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں