خانیوال میں مبینہ پولیس مقابلہ، ’چار شدت پسند ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سی ٹی ڈی پولیس کا دعوی' ہے کہ مارے گئے شدت پسند ملتان میں کسی بڑی دہشت گرد کارروائی کی منصوبہ بندی کررہے تھے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع خانیوال میں محکمۂ انسداد دہشت گردی نے مبینہ پولیس مقابلے میں القاعدہ اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے چار مشتبہ شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

صحافی اے این خان کے مطابق محکمۂ انسداد دہشت گردی کے ایک ترجمان نے لاہور میں میڈیا کو جاری کی گئی تفصیلات میں بتایا کہ مقابلہ خانیوال کی تحصیل جہانیاں کے علاقے لکھی ٹبی میں جمعے اور سنیچر کی درمیانی رات ہوا جہاں پولیس نے مشتبہ شدت پسندوں کی اطلاع پر چھاپہ مارا اور ان کے ٹھکانے کا محاصرہ کرکے وہاں پر موجود شدت پسندوں کو ہتھیار پھینک کر خود کو پولیس کے حوالے کرنے کا کہا گیا۔

ترجمان کے مطابق شدت پسندوں نے چھاپہ مار پولیس ٹیم پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کردی جس کے جواب میں پولیس نے بھی فائرنگ کی۔

اس دوران ایک شدت پسند نے خود کو بارود سے اڑا دیا جس کے باعث اس کے تین دیگر ساتھی بھی مارے گئے جبکہ ان کے تین دیگر ساتھی فرار ہونے میں کامیاب رہے۔

سی ٹی ڈی پولیس کا دعوی' ہے کہ مارے گئے شدت پسند ملتان میں کسی بڑی دہشت گرد کارروائی کی منصوبہ بندی کررہے تھے جن کے قبضے سے اسلحہ، بارود اور خود کش جیکٹس بھی برآمد ہوئیں ہیں۔

خیال رہے کہ رواں ہفتہ کے دوران سی ٹی ڈی پولیس کی پنجاب میں شدت پسندوں کے خلاف یہ دوسری بڑی کارروائی ہے چند روز قبل سی ٹی ڈی نے لاہور کے علاقے شیرا کوٹ میں بھی اسی طرح کے ایک مبینہ مقابلے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے استاد اسلم گروپ کے چھ مشتبہ شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعوی' کیا تھا۔

دونوں مقابلوں کسی بھی پولیس اہل کار کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

اسی بارے میں