پاکستان میں صنعتی ترقی میں اضافہ ہوا ہے: سٹیٹ بینک

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اسٹیٹ بینک کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران بھی بڑی صنعتوں میں ترقی کا رجحان جاری رہے گا

پاکستان کے مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے سے ملک میں کاروبار کے لیے ماحول ساز گار ہوا ہے اورگذشتہ چھ ماہ کے دوران پاکستان میں صنعتی ترقی میں اضافہ ہوا ہے۔

سنیچر کو سٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کے اعلان کیا۔

’پاکستانی معیشت کو اب بحران کے خدشے کا سامنا نہیں‘

مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ جولائی 2015 سے جنوری 2016 کے دوران ملک میں بڑی صنعتوں میں 4.1 فیصد کی شرح سے ترقی ہوئی جبکہ گذشتہ سال اس عرصے کے دوران صنعتی ترقی کی شرح 2.5 فیصد تھی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس عرصے میں زیادہ ترقی سیمنٹ، کھاد اور آٹو موبائل کے صنعتوں میں ہوئی ہے جبکہ ٹیکسٹائل اور سٹیل کی صنعت سست رفتاری کا شکار رہی۔

سٹیٹ بینک کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران بھی بڑی صنعتوں میں ترقی کا رجحان جاری رہے گا۔

سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مارچ 2016 میں ملک میں مہنگائی کی شرح گذشتے کچھ عرصے کے مقابلے میں بڑھی ہے اور ملک میں مہنگائی کی شرح 3.9 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جو ستمبر 2015 میں 1.3 فیصد تھی۔

بیان کے مطابق ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور حقیقی آمدن میں اضافے سے اشیا کی مجموعی طلب بڑھی ہے۔ ملک میں تعمیراتی شعبے، خدمات کے شعبے میں اضافہ ہوا ہے۔

سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ قرضوں پر شرح سود کم ہونے کی وجہ سے بھی نجی شعبے کی جانب سے قرض لینے کا رجحان بڑھا ہے۔

بیان کے مطابق ملک میں اجناس کے وافر ذخائر موجود ہیں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے آئندہ ماہ مہنگائی کی شرح کم ہو گی۔ ملک میں ترسیلاتِ زر بڑھ رہی ہیں اورزرمبادلہ کے ذخائر مستحکم سطح پر ہیں۔ جس کی وجہ سے پاکستانی روپے کی قدر مستحکم ہے۔

سٹیٹ بینک نے اقتصادی اشاریوں میں استحکام کی بنیاد پر آئندہ دو ماہ کے لیے شرح سود چھ فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔

اسی بارے میں