’گوادر پورٹ ایک برس میں فعال ہو جائے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گوادر بندرگاہ کو 47 ارب ڈالر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے کا ’دل‘ سمجھا جاتا ہے

چین کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ پاکستان کی گہرے پانیوں کی بندرگاہ گودار ایک سال میں مکمل طور پر فعال ہو جائے گی۔

چین کی بیرون ملک بندرگارہوں کو ترقی دینے والے محکمے چائنا اورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی کے سربراہ زانگ بوزونگ نے کہا کہ 2017 میں گودار بندرگاہ سے دس لاکھ ٹن کارگو گزرے گا۔

چینی اہلکار نے منگل کے روز ایک سیمینار کے دوران صحافیوں نے بتایا کہ فی الحال گودار بندرگاہ سے تجارت نہ ہونے کے برابر ہے۔’گوادر کو علاقائی تجارت کا مرکز بنانا ہمارا خواب ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس میں (تجارت) میں بہت بڑا اضافہ ہو گا۔‘

گوادر بندرگاہ کو 47 ارب ڈالر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے کا ’دل‘ سمجھا جاتا ہے۔ اس بندرگاہ کے بننے سے چین کو مشرق وسطیٰ، افریقہ اور یورپ تک رسائی آسان ہو جائے گی۔

گودار بندرگاہ 2007 میں چین کے مالی اور تکنیکی تعاون سے قائم ہوئی تھی۔ اس منصوبے کے لیے چین نے پاکستان کو 25 کروڑ ڈالر کی امداد دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلوچستان میں 2004 سے پاکستان سے علیحدگی کی تحریک جاری ہے

چینی اہلکار نے کہا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں گودار پر آنے والے سامان کی اکثریت گوادر شہر کی تعمیر کے لیے سازوسامان پر مشتمل ہو گی۔ پاکستانی اہلکار گوادر شہر کو دبئی کا نعم البدل بنانا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ گودار سے برآمدات کی اکثریت سمندری خوراک کی ہوگی اس مقصد کے لیے ایک جدید پراسیسنگ پلانٹ کا منصوبہ بنایاگیا ہے۔ البتہ چینی اہلکار پراسیسنگ پلانٹ کے منصوبے کی تکمیل کی مدتِ معیاد کے بارے میں کچھ کہنے سےگریز کیا۔

انھوں سیمینار میں شرکت کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ وہ مچھلی کی برآمدات کی ساری پراسیسنگ گودار میں ہو گی تاکہ مقامی آبادی کو فائدہ پہنچ سکے۔

بلوچستان میں 2004 سے پاکستان سے علیحدگی کی تحریک جاری ہے۔ بلوچستان کے قوم پرست سیاست دانوں کو شکوہ ہے کہ صوبے کے وسائل پر بلوچستان کے لوگوں کا حق تسلیم نہیں کیا جا رہا۔

اسی بارے میں