ذہنی مریضہ کے ساتھ ریپ کی کوشش کا ملزم گرفتار

Image caption پولیس کے مطابق ہسپتال کی انتظامیہ نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا تاہم پولیس کو اس بارے میں اطلاع نہیں دی گئی

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں ایک 20 سالہ ذہنی معذور لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی کوشش کرنے والے ہسپتال کے مرد نرس کو ہری پور سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ملزم کے خلاف ایف آئی آر مریضہ کے والد نے درج کرائی تھی۔

اسلام آباد میں کراچی کمپنی کے ایس ایچ او مبارک علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم کرشنا کمار نے ایک ماہ قبل اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام تبدیل کر کے راجہ کبیر رکھا تھا۔ جس کے بعد ملزم نے ہری پور میں ایک مسلمان گھرانے میں شادی کر لی تھی۔

سوات سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ معذور مریض کو متعدد امراض کی وجہ سے پمز کے سرجیکل آئی سی یو میں ایک ماہ پہلے داخل کیا گیا تھا۔ ہسپتال کی انتظامیہ سے منسلک ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتایا تھا کہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ملزم نے مبینہ طور پر آئی سی یو میں ایک مریضہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے ملزم کو معطل کرتے ہوئے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

20 سالہ معذور مریضہ نہ تو بول سکتی ہیں اور نہ ہی چل سکتی ہیں۔ انھوں نے اشاروں اور اپنے آنسوؤں سے اپنی والدہ کو اس واقعے سے آگاہ کیا، جس کے بعد مریضہ کی والدہ نے انتظامیہ کو شکایت درج کرائی مگر اس پر اس وقت تک کارروائی نہیں کی گئی جب تک خبر میڈیا تک نہیں پہنچی۔ اس کے بعد ملزم اسلام آباد سے فرار ہو گیا۔

ہسپتال کے ذرائع کے مطابق دو برس پہلے بھی ملزم پر ایک ساتھی خاتون نرس نے جنسی زیادتی کا الزام لگاتے ہوئے مقدمہ درج کرایا تھا جس کے بعد یونین کی مدد سے معاملہ عدالت کے باہر ہی نمٹا دیا گیا اور ملزم بدستور پمز میں میل نرس کے فرائض سرانجام دیتا رہا۔

دوسری جانب قومی اسمبلی میں بھی منگل کو اس واقعہ پر توجہ دلائی گئی۔ اس سلسلے میں وفاقی انتظامیہ اور ترقیاتی ڈویژن کے وزیر ڈاکٹر طارق فضل نے کہا کہ ان کی جانب سے تشکیل دی جانے والی تین رکنی ٹیم اس واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ آج پیش کرے گی اور اس میں ملوث تمام ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

تحقیقاتی کمیٹی نے منگل کو ملزم کے ساتھ اس وقت ڈیوٹی پر موجود تین اہلکاروں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل نے ایوان کو یقین دلایا کہ واقعے کی رپورٹنگ میں تاخیر اور حقائق چھپانے میں ملوث پمز ہسپتال کی انتطامیہ کے اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

اسی بارے میں