نواز شریف طبی معائنے کے لیے لندن پہنچ گئے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ PML N

پاناما پیپرز کے انکشافات کے بعد سیاسی بحران میں گھرے وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف بدھ کو طبی معائنے کے لیے لندن پہنچ گئے ہیں۔

٭وزیرِ اعظم کے استعفے پر حزب اختلاف میں اختلاف

٭ ’نواز شریف زداری کے دربار میں حاضری کے لیے لندن جا رہے ہیں‘

وزیر اعظم نواز شریف کے قریبی حلقوں کا اصرار ہے کہ وہ لندن میں اپنے قیام کے دوران کوئی سیاسی ملاقات اور سرکاری کام سر انجام نہیں دیں گے اور ان کا دورہ صرف اور صرف طبی معائنے کے لیے ہے۔

دوسری جانب پاکستان کی سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اعتراز احسن نے دعویٰ کیا ہے کہ نواز شریف پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کرنے کے لیے لندن جا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ پاناما لیکس سے پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے بعد سے وزیر اعظم نواز شریف اپنے سیاسی گڑھ لاہور سے باہر نہیں نکلے اور ان کی کئی اہم سرکاری مصروفیات اور دوروں کو بھی منسوخ کر دیا گیا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق نواز شریف لاہور میں قیام کے دوران اپنے قریبی رفقا سے صلاح و مشورے کرتے رہے۔

نواز شریف کو چند دن قبل پاکستان فضائیہ میں نئے طیاروں کی شمولیت اور تھر کول منصوبے کے حوالے سے اہم تقریبات میں شرکت کرنے کے لیے کراچی جانا تھا لیکن وہ دورہ بھی منسوخ کر دیا گیا۔

وزیر اعظم نے اس کے بعد ترکی کا اہم دورہ بھی منسوخ کر دیا تھا اور ان کی جگہ صدر ممنون حسین ترکی روانہ ہو گئے تھے۔

اس دوران نواز شریف کے قریبی ساتھی اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے مذاکرات کے لیے امریکہ جانا تھا لیکن وزیر خزانہ کا دورہ بھی منسوخ کر دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے بڑے طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ نواز شریف دراصل ’لندن میں زرداری صاحب کے دربار میں حاضری دینے کے لیے جا رہے ہیں‘

گذشتہ روز گوادر میں ایک اہم سیمینار میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی عدم شرکت بھی مبصرین کے لیے انتہائی حیران کن تھی۔ اس سیمینار میں چین کے سفارت کاروں اور ماہرین کے علاوہ پاکستانی فوج کے سربراہ راحیل شریف نے بھی شرکت کی تھی اور گوادر کی بندرگاہ اور پاکستان میں را کی مبینہ سرگرمیوں کے بارے میں اہم خطاب کیا تھا۔

اس سیمینار میں احسن اقبال کو ایک پاکستان کی اقتصادی ترقی میں گودار کی بندرگاہ کی اہمیت اور پاک چین اقتصادی راہ داری کے منصوبہ میں پیش رفت کے بارے میں ایک ’پریزنٹیشن‘ دینی تھی جو ان کی جگہ ایک سرکاری اہلکار نے دی۔

پاناما لیکس کے بعد قومی اسمبلی اور بعد میں پارلیمنٹ کے اجلاس میں بھی میاں نواز شریف نے شرکت نہیں کی اور اپوزیشن کی طرف سے شریف خاندان کی جائیداد اور کاروبار کے بارے میں اٹھائے جانے والے اعتراضات اور سوالات کے جواب وفاقی وزرا اور پارٹی عہدیداران دیتے رہے۔

اسی بارے میں