تھر میں بڑھتے مدارس اور بنیاد پرستی

نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس نے سندھ کے صحرائی علاقے تھر میں مدارس کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ تھر ریاست کی لاتعلقی، حکومتی نااہلی، افسر شاہی کی سست روی اور بدعنوانی کی وجہ سے سنگین صورت حال کا مظہر بن چکا ہے۔

نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس نے 32 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں تھر میں قحط سالی سے نمٹنے کے لیے سفارشات پیش کی ہیں اور کہا ہے کہ تھر میں اب ایک دوسرا مسئلہ سر اٹھا رہا ہے اور وہ ہے بنیاد پرستی اور مذہب کی جبری تبدیلی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ تھر پارکر میں مسلمان آبادی کے مقابلے میں ہندو برادری کی بہت بڑی تعداد میں موجود ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ ریاست نے مدارس کی فعالیت پر محدود کنٹرول حاصل کیا ہے تاہم کمیشن ان مدارس کے نصاب میں مداخلت کے حوالے سے کوئی کام نہ ہونے کی وجہ سے مدارس کی تعداد میں اضافے کو ایک بہت بڑی انتباہ کے طور پر دیکھتا ہے۔

جسٹس علی نواز چوہان کی سربراہی میں کمیشن نے صحرائے تھر کا تفصیلی دورہ کرنے کے بعد یہ رپورٹ مرتب کی اور اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ کوئی بھی چیز جو خطے میں فرقہ وارانہ امن کو متاثر کرے اس کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے اقلیتی رکن سندھ اسمبلی ڈاکٹر کھٹو مل کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت نے اپنے اجلاسوں اور فورمز پر اس مسئلے کی نشاندہی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے: ’ہم مدارس کے مخالف نہیں ہیں لیکن یہ چاہتے ہیں کہ نصاب اور مدارس کی نگرانی ہونی چاہیے۔‘

’مٹھی شہر کے علاوہ دیگر شہروں، گاؤں کے علاوہ جنگلوں میں بھی مدارس بن رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ایسی کوئی چیز نہ ہو جس سے تھر، سندھ اور پاکستان کے امن میں خلل پڑے۔‘

تھر میں مدارس میں اضافے اور مذہب کی تبدیلی کا معاملہ قومی اسمبلی میں بھی زیر بحث آ چکا ہے۔

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی لال مالھی کا کہنا ہے کہ اگر کسی کے پاس کھانا نہیں ہوگا اور اس کے بچے بھوک مر رہے ہوں گے تو کوئی بھی یہ نہیں کرے گا کہ وہ سکولوں کی تلاش کرے۔

’انھیں کھانے کی تلاش ہوتی ہے اور جہاں سے بھی کھانا ملے گا وہ اس طرف جائے گا، پھر یہ مدرسہ کیوں نہ ہو، مدارس ہونا کوئی بُری بات نہیں ہے لیکن نہ ان کے نصاب پر کنٹرول ہے اور نہ ہی آج تک ان پر جو الزامات لگتے رہے ہیں اس حوالے سے حکومت کا کوئی کنٹرول نظر آتا ہے۔ تھر میں جو اقلیتیں رہتی ہیں ان کے لیے تو بہت زیادہ بُری صورت حال ہے۔‘

لال مالھی کے مطابق یہ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور میں شامل ہے کہ وہ مذہب میں جبری تبدیلی کو روکنے کے لیے قانون سازی کریں گے لیکن دونوں جماعتوں نے اس حوالے سے کوئی کام نہیں کیا۔

مشیر برائے مذہبی امور قیوم سومرو کا کہنا ہے کہ دراصل ان مدارس کے پاس تمام سہولیات ہوتی ہیں، یہ لوگ عطیات پر مدرسے چلاتے ہیں۔ طلبہ کو وہاں کپڑا اور کھانا بھی مل جاتا ہے جس سے ان کی ضروریات پوری ہو جاتی ہیں اور یہ سہولیات ان کے لیے کشش کی بڑی وجہ ہیں۔

قیوم سومرو کا مزید کہنا تھا کہ تھر میں بنیادی مسئلہ غذائی قلت ہے، جب یہ مدارس ان غریب لوگوں کو خوراک اور تعلیم دیتے ہیں تو لوگ ان کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ جس کا حل یہ ہی ہے کہ حکومت ان کو متبادل دے۔

’تھر میں پانی، صحت ، بھوک اور بے روزگاری کا مسئلہ ہے اور یہ وہ مسئلے ہیں جن پر توجہ دی جا سکتی ہے اور ان سے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔‘

سندھ کا صحرائی ضلع تھر گذ شتہ تین سالوں سے مسلسل سنگین قحط سالی کا شکار ہے، جہاں غذائی قلت اور سہولیات کے فقدان کی وجہ سے متعدد نومولود بچوں کی اموات ہو چکی ہیں۔

اسی بارے میں