’کمیٹی اپنا فیصلہ قبائلیوں پر نہیں ٹھونسے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کی رپورٹ ملنے کے بعد وزیر اعظم لویہ جرگہ طلب کریں گے جس کے بعد کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا: گورنر خیبر پخونخوا

خیبر پختونخوا کے گورنر ظفر اقبال جھگڑا نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں اصلاحات کی کمیٹی کے اراکین نے چھ قبائلی ایجنسیوں سے معلومات اکٹھی کر لی ہیں اور بہت جلد آخری ایجنسی کا دورہ کرنے کے بعد وہ اپنی تجاویز پر مبنی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کر دیں گے۔

اسلام آباد میں فاٹا میں انتظامی اصلاحات سے متعلق ایک سیمینار میں حکومتی اصلاحاتی کمیٹی میں قبائلیوں کی نمائندگی نہ ہونے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ کمیٹی اپنا فیصلہ قبائلیوں پر نہیں ٹھونسے گی بلکہ رپورٹ ملنے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف لویہ جرگہ طلب کریں گے جس کے بعد کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

اس سیمینار کا انعقاد سینٹر فار گورننس اینڈ اکاونٹیبلٹی نامی غیرسرکاری تنظیم نے کیا تھا۔

ظفر اقبال جھگڑا کا کہنا تھا کہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس کے فیصلے زبردستی نافذ نہیں کیے جائیں گے۔

اپنے خطاب میں عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما بشریٰ گوہر کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کے اراکین کے علاوہ گورنر بھی بتائیں کہ آخر ان کے پاس قبائلی علاقوں کے معاملات میں فیصلہ کرنے کا کتنا اختیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صاحبِ اختیار کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ پاکستان کو سکیورٹی سٹیٹ رہنا ہے یا جمہوری ملک۔ بشریٰ گوہر نے کہا کہ فاٹا کا سٹرٹیجک علاقے کے طور پر استعمال بند کرنا ہو گا۔

انھوں نے شکایت کی کہ قبائلی علاقوں کے مستقبل کے لیے جاری مشاورت میں عورتوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے جو درست نہیں ہے۔

سیمنار سے مسلم لیگ ق کے سینیئر رہنما اجمل خان وزیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قبائلیوں کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بےگھر پناہ گزین ہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا جلد از جلد حل بہت ضروری ہے۔

یاد رہے کہ بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں وفاقی وزیر برائے قبائلی امور عبدالقادر بلوچ نے کہا تھا کہ فاٹا میں اصلاحات کے لیے بنائی گئی کمیٹی بہت جلد اپنی تجاویز مرتب کر لے گی، لیکن ابھی تک تجاویز کو حتمی شکل نہیں دی گئی۔

اسی بارے میں