کیا جنوبی پنجاب کے آپریشن کا دائرہ بڑھے گا؟

پنجاب کا ایک مدرسہ
Image caption پنجاب میں شدت پسند کارروائیوں کے بعد کئی مدرسوں سے لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے

لاہور کے گلشن اقبال پارک کے اطراف میں متعدد مدرسے اور دکانیں ہیں۔ ستائیس مارچ کو ایسڑ کے روز یہاں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد ان مدرسوں اور دکانوں سے درجنوں افراد کو زیر حراست لیا گیا۔

ابو عبید خادم حسین پارک کے قریب ہی واقعے ایک چھوٹے سے مدرسے جامعہ عثمانیہ کے مہتمم ہیں۔ دھماکے کے بعد پولیس ان کے بیٹے سمیت مدرسے کے کئی افراد کو تفتیش کے لیے اٹھا لے گئی تھی۔

’ان کا (سیکورٹی اہلکاروں کا) طریقہ صحیح نہیں تھا۔ آدھی رات کو اچانک دھاوا بول دیا۔ آنکھوں پر پٹی باندھ کر آپ اس طرح کسی کو اٹھا لے جائیں اس کے گھر والے بھی دیکھ رہے ہوں تو پریشانی تو ہوتی ہے۔ اور پولیس بھی بہت مسلح تھی۔ جس سے سب خوفزدہ ہوگئے۔‘

ابو عبید کا بیٹا تو واپس آچکا ہے تاہم ارد گرد سے گرفتار کیےگئے کئی افراد ابھی پولیس کی حراست میں ہیں۔

Image caption مذہبی جماعتوں نے حکومت کی کئی پالیسیوں کو اسلام کے منافی قرار دیا ہے

دھماکے کے بعد گلشن اقبال پارک کو جزوی طور پر کھولا جا چکا ہے۔ جھولوں کو نئے سرے سے پینٹ پالش کیا جا چکا ہے۔ اور ایسٹر کی شام یہاں ہونے والی تباہی کا نام ونشان مٹا دیا گیا ہے۔ لیکن لوگ یہاں خال خال ہی دکھائی دیتے ہیں۔ پانچ نمبر گیٹ پر لگے جھولے ابھی بھی ساکت ہیں۔

لاہور میں اس سے پہلے بھی کئی بم دھماکے ہو چکے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ جو بات مختلف ہوئی وہ یہ تھی کہ گلشن اقبال کے سانحے کے بعد جنوبی پنجاب میں فوج رینجرز اور پولیس کے مشترکہ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا۔

یہ فیصلہ معمولی نہیں تھا۔ سکیورٹی امور کے ماہر اور پنجاب کے سابق آئی جی پولیس خواجہ خالد فاروق کہتے ہیں: ’پہلے فوج نے آئی آیس پی آر کے ذریعے اعلان کیا کہ ہم نےجنوبی پنجاب میں آپریشن شروع کر دیا ہے۔ اس کا مقصد سیاسی سویلین حکومت پر دباؤ ڈالنا اور انھیں یہ پیغام دینا تھا کہ وہ ایکشن لے ورنہ فوج آگے بڑھ رہی ہے۔ پنجاب میں ہمیشہ ہی ایسی کارروائی کے لیے سیاسی عزم کی کمی رہی ہے۔ یہاں خاص طور پر فرقہ وارانہ تنظیموں کو اسی لیے پنپنے کا موقع ملا۔‘

پنجاب میں آپریشن ضرب عضب کے بعد شدت پسند مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی میں تیزی آئی لیکن میاں شہباز شریف کی حکومت فوج یا رینجرز کی قیادت میں کسی بھی کارروائی سے کتراتی رہی۔

Image caption ستائیس مارچ کو ایسڑ کے روز لاہور کے گلشن اقبال پارک میں ہونے والے خودکش دھماکے میں اسی کے قریب لوگ ہلاک ہوئے تھے

بارہا ملک کے دوسرے حصوں میں ہونے والی دہشتگردی کے تانے بانے پنجاب سے جوڑے جاتے رہے اور یہاں موجود مدرسوں کو دہشتگردی کی نرسریاں قرار دیا جاتا رہا تاہم ان کے خلاف بڑے پیمانے پر کوئی آپریشن نہیں ہو سکا۔

مبصرین کی رائے ہے کہ اب جنوبی پنجاب میں فوج رینجرز اور پولیس کے مشترکہ آپریشن کے ذریعے عسکری قیادت نے یہ پیغام دیا کہ وہ پنجاب میں کارروائی کے حوالے سے سنجیدہ ہیں۔

اور جنوبی پنجاب کے جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف اس آپریشن کو یہیں ختم نہیں کیا جائے گا۔

لیکن کچھ حلقوں کی طرف سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا پنجاب میں شروع کی جانے والی کارروائی اچھے اور برے یا اپنے پرائے کی تمیز کے بغیر ہوگی؟ اور کیا اس میں جماعت الدعوۃ اور جیش محمد جیسی تنظیمیں بھی شامل ہوں گی جن پر سرحد پار دہشتگردی کے الزامات لگتے رہے ہیں؟

خواجہ خالد فاروق کہتے ہیں: ’جیش محمد کے خلاف کارروائی ہوئی ہے اور جماعت الدعوۃ کا دعویٰ ہے کہ وہ اس قسم کی کارروائیوں میں ملوث نہیں۔ لیکن کوئی بھی جماعت جو دہشتگردی کی کارروائیوں میں شامل ہے اس کے خلاف کارروائی میں تفریق نہیں ہونی چاہیے۔اگر آپ تفریق کریں گے تو پھر بات ’گڈ‘ اور ’بیڈ‘ کی ہوجائے گی جو غلط تقسیم ہے۔‘

ایک طرف تو پنجاب میں شدت پسندی اور دہشتگردی کے خلاف مختلف نوعیت کے آپریشنز جاری ہیں تو دوسری جانب ملک بھر کی مذہبی جماعتوں نے حکومت کی کئی پالیسیوں کو اسلام کے منافی قرار دیتے ہوئے یہیں سے ہی احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تحفظ ناموس رسالت کے نام سے شروع کی گئی اس تحریک کے کئی اجلاس جماعت اسلامی کے صدر دفتر منصورہ میں ہو چکے ہیں۔ تحریک میں شامل جماعتیں پنجاب میں جاری آپریشن سے مطمئن نہیں۔

Image caption پارک پبلک کے لیے کھول دیا گیا ہے لیکن ابھی اس میں وہ پہلے والی رونق نہیں ہے

جماعت اسلامی کے رہنما فرید پراچہ کہتے ہیں کہ ’پنجاب میں جاری آپریشن ہدف کے بغیر ہے اور اس کا مقصد کچھ لوگوں کو مطمئن کرنا اور نمبر بڑھانا ہے۔ یہ اعداد و شمار پورے کرنے کے لیے ہے کہ ہم نے اتنے لوگ پکڑے ہیں۔ اندھا دھند گرفتاریاں ہو رہی ہیں بغیر تحقیق اور تفتیش کے۔‘

مذہبی حلقوں کی تنقید کے باوجود کیا جنوبی پنجاب سے شروع کیےگئے آپریشن کا دائرہ صوبے کے اور علاقوں تک بڑھایا جائے گا؟ اور کیا اس میں سرحد کے اس پار یا اس پار متحرک مسلح تنظیموں کے خلاف یکساں کارروائی ہوگی؟ مبصرین کی رائے ہے کہ پنجاب میں لڑے جانے والے اس معرکے کو فیصلہ کن بنانے میں یہی عوامل اہم ہوں گے۔

اسی بارے میں