’پانچ سالوں میں پانچ سو سےزیادہ رحم کی اپیلیں مسترد ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پانچ سالوں کے دوران مختلف عدالتوں سے موت کی سزا پانے والے 513 قیدیوں کی رحم کی اپیلیں مسترد کردی گئی ہیں

وزارت داخلہ نے پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے ارکان کو بتایا ہے کہ گذشتہ پانچ برسوں کے دوران صدر مملکت نے پانچ سو سے زائد موت کی سزا پانے والے مجرموں کی رحم کی اپیلوں کو مسترد کر دیا ہے۔

پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی جماعت، جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق کی طرف سے پوچھے گئے سوال کے تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران مختلف عدالتوں سے موت کی سزا پانے والے 513 قیدیوں کی رحم کی اپیلیں مسترد کردی گئی ہیں۔

ان پانچ سالوں میں سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے دور کے آخری دو سال بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں سزائے موت پر عمل درآمد پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ تاہم دسمبر سنہ 2014 میں پشاور میں شدت پسندوں کی طرف سے آرمی پبلک سکول پر حملوں کے بعد موجودہ حکومت نے سزائے موت پر عمل درآمد سے پابندی اُٹھا لی تھی۔

وزرات داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق فوجی عدالتوں سے موت کی سزا پانے والوں کے علاوہ عام عدالتوں سے موت کی سزا پانے والے 300 سے زائد مجرموں کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

اہلکار کے مطابق جن مجرموں کی سزاؤں پر عمل درآمد ہوا ہے اُن میں سے اکثریت اُنہی قیدیوں کی ہے جن کی رحم کی اپیلیں مسترد کر د ی گئی تھیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ جن مجرموں کی رحم کی اپیلیں مسترد کی گئی ہیں اُن میں قتل کے علاوہ اغوا برائے تاوان کے مجرمان شامل ہیں۔

اہلکار کے مطابق ان 513 مجرموں میں سے دس مجرموں کی سزاؤں پر عین اس وقت عمل درآمد روک دیا گیا جب مدعی مقدمہ نے ان مجرموں کو معاف کر دیا۔

وزارت داخلہ کی طرف سے جمع کروائے گئے جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ اب تک 38 اپیلیں اُن کے پاس پڑی ہیں جن میں سے 13 درخواستیں فیصلے کے لیے صدر مملکت کو بھجوا دی گئی ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق پاکستان دنیا کے اُن دس ممالک میں شامل ہیں جہاں گذشتہ برس سب سے زیادہ پھانسیاں دی گئی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظمیں پاکستان سمیت دنیا بھر میں سزائے موت کو ختم کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔

اسی بارے میں