چھوٹو بہت بڑی فلم ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

چھوٹو کوئی ڈاکو، اغوا کار، قاتل نہیں بلکہ ایک فارمولا فلم ہے جو نام بدل بدل کے ریلیز ہوتی رہتی ہے۔ایسی اکثر فلمیں بوجوہ فلاپ ہوجاتی ہیں۔ کچھ یادگار بن جاتی ہیں۔

کہانی عموماً یوں ہوتی ہے کہ چھوٹو ایک امن پسند قبائلی یا کسان ہے۔جس کی کوئی تعلیم نہیں، شناخت نہیں۔اس کا ایک بھائی جزوقتی وارداتی ہے مگر وہ تو پولیس کے ہاتھ نہیں آتا۔ چھوٹو ہاتھ آجاتا ہے ۔پولیس اس پر ٹارچر کرتی ہے اور پرچہ کاٹ دیتی ہے اور پھر وہ ڈاکو بن جاتا ہے اور ایک دن انجام کو پہنچتا ہے۔ مگر یہ کہانی ہزار بار پٹ چکی ہے۔

چلیے پھر کوشش کرتے ہیں۔ایک عدد چھوٹو جس کی ایک بہن، بیٹی یا بیوی ہے۔کسی دن کسی بااثر بگڑے نوجوان کی اس پر نظر پڑ جاتی ہے۔ وہ عورت کو ہتھیانے کی کوشش کرتا ہے اور پھر بے بس عورت کا بے بس باپ، بھائی یا شوہر انتقام کی آگ میں اندھا ہو کر قتل، ڈاکے اور اغوا کے راستے پر چل نکلتا ہے ۔

لوگ ساتھ آتے جاتے ہیں اور کارواں بنتا جاتا ہے۔برسوں بعد کسی ایک دن خود پر ضرورت سے زیادہ اعتماد ، سازش یا بے احتیاطی کے سبب چھوٹو مارا جاتا ہے۔

زندہ رہنا بھی چاہے تو یوں نہیں رہ سکتا کہ سر پر دس بیس لاکھ روپے کا انعام ہے۔تائب اس لیے نہیں ہو سکتا کیونکہ بھانت بھانت کے سرپرستوں اور پولیس والوں کےلیے دودھ دینے والی گائے بن چکا ہے۔لہذا دودھ دیتے رہنا ہے یا پھر ذبح ہو جانا ہے۔

مگر اس کہانی میں بھی مزہ نہیں آ رہا۔ آج کے حساب سے اس میں کوئی خاص جدت ، کانسپریسی یا ایڈونچر نہیں ۔ چلیے پھر سے کوشش کرتے ہیں۔

ایک تھا چھوٹو ۔اب تک بیان کردہ کسی بھی وجہ سے وہ ایک بہت بڑا گینگ لیڈر بن گیا۔اتنا بڑا ڈان کہ دو صوبوں کے پانچ اضلاع کی ’پلس‘ سنگین وارداتوں کے چالیس پچاس مقدمات میں اس کے پیچھے ہے ۔اور وہ بھی ایسے مقدمے کہ جن میں سے کسی ایک کی سزا بھی موت یا عمر قید سے کم نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

لیکن چھوٹو جتنا بھی طاقتور ہوجائے اسے پناہ کےلیے محفوظ جگہ چاہیےاور یہ جگہ کسی مقامی بااثر کی خوشنودی سے ہی میسر آسکتی ہے۔ یہ خوشنودی تب ہی ممکن ہے جب چھوٹو اور اس بااثر میں کاروباری پارٹنر شپ ہو جائے۔

یعنی تاوان ہو کہ ڈاکہ کہ سمگلنگ ۔اس میں ایک حصہ چھوٹو اور اس کے ساتھیوں کو جگہ اور پناہ دینے والے کا لازمی ہے۔ اس کے بدلے جگہ دینے والا پشت پناہ اوپر سے آنے والے ہر انتظامی و سیاسی دباؤ کو خود پر جھیلے گا اور چھوٹو تک آنچ نہیں آنے دے گا۔

مگر چھوٹو اتنا بے وقوف بھی نہیں کہ سب انڈے ایک ہی ٹوکری میں رکھ دے۔اسے اچھے سے معلوم ہے کہ پشت پناہ کی طاقت بھی اپنے سے کہیں طاقتور لوگوں کی مرہونِ منت ہے ۔لہذا چھوٹو کو کسی ناگہانی یا آڑے وقت کےلیے آس پاس کے جرائمی بھائیوں اور پیشہ ور معززین سے بھی کچھ لو کچھ دو کا تعلق رکھنا ہے۔

کوئی سر پھرا افسر آجائے جو مقامی معززین کی بھی نہ سنے تو بچنے کےلیے محکمہ جاتی مخبری کا نیٹ ورک بھی بنانا ہے۔اور اس نیٹ ورک کی وقت بے وقت فرمائشوں کی بھی لاج رکھنی ہے۔ تاکہ اطلاعات، اسلحے اور افرادی قوت کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے اور سونے کے انڈے دینے والی مغوی مرغیوں کی آمدورفت میں بھی کوئی اڑچن نہ رہے ۔

ویسے بھی ذہین کاروباری کسی سے بھی بگاڑ کے نہیں رکھتے اور یہاں تو چھوٹو کی بقا کا معاملہ ہے۔ اور پھر فلم کا کلائمکس آجاتا ہے۔

کسی بھی وجہ سے کاروباری پارٹنرز کو ایک دوسرے پر شبہہ ہونے لگتا ہے۔توازن ِ طاقت ایک بااثر لابی سے دوسری کی جانب شفٹ ہونے لگتا ہے۔ اوپر والے اپنی بقا کےلیے کچھ نہ کچھ کر دکھانے کےلیے شکار کی تلاش میں دیدے گھمانے لگتے ہیں ۔یوں دباؤ اوپر سے نیچے شفٹ ہونا شروع ہوجاتا ہے۔اور سب سے نیچے ظاہر ہے چھوٹو ہی ہے۔

آخر میں چھوٹو کسی قریبی ساتھی کی مخبری یا کسی سازش کا نوالہ یا اس بااثر مقامی کی تبدیل شدہ سیاسی ترجیحات کا بکرا بن جاتا ہے جس نے کل تک چھوٹو کو ہتھیلی کے پھپھولے کی طرح سنبھال کے رکھا۔یوں چھوٹو اور اس کے ساتھیوں کا کام اتر جاتا ہے۔

کچھ عرصے بعد جب حالات نارمل ہو جاتے ہیں تو زندگی دوبارہ پرانے ڈھرے پر چڑھ جاتی ہے۔وہی یا اس جیسا کوئی اور مقامی بااثر ، وہی پولیس ، وہی خودغرض سیاسی شاطر ، وہی دائمی سادہ لباس والے اور انکی بدلی ہوئی ترجیحات ۔ اور ایک نئے چھوٹو کی مدد سے وہی پرانی میوزیکل چئیر کہ جس میں ہار ہمیشہ چھوٹو کا مقدر ہے ۔۔۔ کہیے یہ فلمی پلاٹ چلے گا؟

( اگر مصالحہ کم زیادہ لگے تو حسبِ ذائقہ و ضرورت کم زیادہ کر لیجیے گا)

اسی بارے میں