چوروں کی بارات

ریاست کی کئی قسموں میں سے ایک کلیپٹو کریسی یا چور شاہی کہلاتی ہے۔ یعنی رنگ، نسل، عقیدے، علاقے اور نظریے کے فرق سے بالا چوروں کا ایسا ٹولہ جو کوئی بھی روپ دھار لے مگر مقصد ایک ہی ہو۔ ریاست کو وسائل سمیت چرانا۔

چوری، ڈاکہ، اغوا ذلیل پیشے سمجھے جاتے ہیں۔ اسی لیے دنیا کی ہر ریاست میں ان کے تدارک کے لیے سخت قوانین بنائے جاتے ہیں۔ مگر کلیپٹو کریسی ایک فائن آرٹ کا نام ہے۔ اچھا کلیپٹو کریٹ کبھی اکیلا کام نہیں کرتا بلکہ ہر طرح کی چوری اور ڈاکے کے فن میں طاق ماہرین کو اپنے ساتھ ملاتا اور آگے پیچھے کرتا رہتا ہے۔

چور شاہی کے لیے ضروری ہے کہ جنھیں لوٹنا مقصود ہے انھیں شخصی یا گروہی سحر میں مبتلا کر کے سلایا اور جگایا جا سکے۔ ان کے لیے وعدوں کا ایسا نایاب کپڑا بنا جا سکے جس کا وجود ممکن نہیں اور بھولے شکار کے آگے روشن مستقبل کی گاجر لٹکا کے ایک بے مسافت لایعنی دائرے کے سفر پر ہنکالا جا سکے۔

پیشہ ور کلیپٹو کریٹ کنجوس نہیں ہوتا۔ ہر سائل کے لیے اس کے پاس کچھ نہ کچھ ہوتا ہے۔ جو نام کے بھوکے ہیں انھیں نام دیتا ہے، جو عہدے کے خواہش مند ہیں انھیں مناسب کرسی سے سرفراز کرتا ہے، جو انویسٹی گیشن کے شوقین ہیں انھیں طرح طرح کی کہانیاں بطور چارہ پیش کرتا ہے۔ جو منہ مانگی قیمت پر فروخت ہونے کے لیے بے تاب ہیں ان کا منہ موتیوں سے بھر دیتا ہے۔ کلیپٹو کریسی لوگ نہیں ضمیر خریدتی ہے۔

کامیاب کلیپٹو کریٹ وہ ہے کہ جن جن حلقوں سے بھی خطرہ ہو انھیں اپنے ساتھ ملا سکے، نہ ملیں تو کردار کشی، تحریص، دھمکی، جذباتی بلیک میلنگ سمیت کسی بھی حربے سے کھڈے لائن لگا سکے۔

پھر بھی بھانڈا پھوٹنے کا احتمال ہو تو آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے چور شاہی خود کو ایک سے زائد متحارب گروہوں میں تقسیم کر سکتی ہے۔ نام میں کیا رکھا ہے۔ نیشنل لیگ فار کلیپٹو کریسی، فیڈرل کلیپٹو کریٹک فرنٹ، جمیعت السارقین، ریجنل کلیپٹو کریٹک کمان وغیرہ وغیرہ۔

ایک ماہر کلیپٹو کریٹ گروہ کی ہر واردات قانون کے دائرے میں ہوتی ہے۔ ہر ایس آر او، کنٹریکٹ، ایگری منٹ، پلان، بجٹ، گرانٹ، امپورٹ، ایکسپورٹ، سرمائے کی ٹرانزیکشن سمیت سب ہی کچھ ۔ واردات کا کچا پکا ریکارڈ رکھنے والا کبھی عمدہ کلیپٹو کریٹ نہیں ہو سکتا۔

چور شاہ کا ہر مالی الٹ پھیر شفاف ہونا چاہیے۔ وہ کسی بھی ڈیل میں براہِ راست کمیشن لینے اور دینے کو گناہِ کبیرہ سمجھتا ہے۔ بظاہر ایک ہی کمیشن سے واقف ہوتا ہے جو معاملے کو دفنا سکے۔

مثالی کلیپٹو کریٹ وہ ہے جس کے بارے میں لوگ قسم اٹھا سکیں کہ سورج تو مغرب سے طلوع ہو سکتا ہے مگر مرزا صاحب چور شاہ ہرگز ہرگز نہیں ہو سکتے۔ ان جیسا سادہ، خدا ترس اور دنیا سے بے رغبت آج کے دور میں عنقا ہے۔

المختصر کہ بہترین چور شاہ یا کلیپٹو کریٹ ہر آزمائش کو اپنے لیے کندن بنانے کا فن جانتا ہے۔ یعنی،

دامن پے کوئی چھینٹ نہ خنجر پے کوئی داغ

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

جو کلیپٹو کریسی ریاست کترنے کا کام نفاست اور باریکی سے نہیں کر سکتی اس کو واقعی وہی سزا ملنی چاہیے جو کسی بھی ٹچے چور یا ڈاکو کا مقدر ہے۔

کیا چور شاہی سے نجات پانے کا کوئی طریقہ ہے؟

ایک صاحب نے اپنے برخوردار کو قریبی مدرسے میں داخل کرایا۔ ایک دن بچہ روتا آیا اور باپ سے کہا کہ آج استاد جی نے میرے ساتھ خالی کلاس روم میں ایسی بات کی کہ میں بیان نہیں کرسکتا۔

غضبناک باپ فوراً بات کی تہہ تک اور پھر مدرسے کے مہتمم تک جا پہنچا۔ بے نقط سناتے ہوئے کہا کہ آئندہ میں اپنے بچے کو آپ کے مدرسے کے قریب بھی پھٹکنے نہیں دوں گا اور کل ہی اسے نکلسن روڈ والے مدرسے میں داخل کروا دوں گا۔

مہتمم صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا کہ جناب آپ کے بچے کے ساتھ جو ہوا اس پر مجھے دکھ ہے۔ ہم نے استاد کو نوکری سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔پھر بھی اگر آپ اپنے لختِ جگر کو کسی اور مدرسے میں ڈالنا چاہیں تو آپ کی مرضی۔ بس اتنا عرض کروں گا کہ ہر جگہ نصاب ایک ہی ہے۔

اسی بارے میں