کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ 100 سے زائد مکانات تباہ

تصویر کے کاپی رائٹ Auragzaib Jarral
Image caption دو روز قبل اس علاقے کے نیچلے حصے میں غیر معمولی حرکت محسوس کی گی جس کے بعد زمین میں دراڑیں پڑنے کا آغاز ہوا اور گذشتہ روز اس میں اتنی تیزی آئی کہ لوگوں نے گھروں سے بھاگ کر جان بچائی

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دارالحکومت مظفر آباد سے 48 کلومیٹر دور ڈنہ کچیلی کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 100 مکانات زمین بوس ہو گے ہیں۔

ضلع مظفرآباد کے ڈپٹی کمیشنر مسعودالرحمان کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں تین دن سے مسلسل زمین آہستہ آہستہ دھنس رہی ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے ایس ڈی ایم کے مطابق ڈنہ کے مقام پراب بھی زمین آہستہ آہستہ سرک رہی ہے جس کی زد میں مزید ایک سو مکانات آنے کا اندیشہ ہے ۔

* کشمیر: مکانات پر مٹی کے تودے گرنے سے 11 افراد ہلاک

ضلعی انتظامیہ نے اس علاقے کے تین کےگاوں محلہ قاضیاں، سہوتر، متھا کو آفت زدہ قرار دے کر ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر مظفرآباد کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ایک سو مکانات اب تک زمین بوس ہوچکے ہیں۔

لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ زمین سرکنے کے دوران تمام افراد گھروں سے بحفاظت بھاگ نکلنے میں کامیاب رہے۔

صحافی اورنگزیب جرال کے مطابق کم سے کم 1200 افراد بے گھر ہو گئے ہیں جو اکثر اپنے عزیز واقارب کے پاس جبکہ چند گھرانے ایک پرانی سرکاری عمارت میں رہائش رکھنے پر مجبور ہیں۔ متاثرین خاندانوں کے اکثر سربراہ مزدور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

چند افراد خطرے کے باوجود تاحال سامان کو محفوظ جگہ پر منتقل کررہے ہیں۔ عینی شائد کے مطابق زمین دھنسنے سے اس علاقے کے تین قبرستان زمین بوس ہوگے ہیں۔ 9 کے قریب میتیں باہر آ گئی جن میں سے صرف دو کو متاثرہ علاقے سے نکالا جا سکا اور بعد میں دوسری جگہ پر دفنا دیا گیا۔

ضلعی انتظامیہ نے متاثرین کی آبادکاری کے لیے فوج اور غیرسرکاری تنظیموں کے تعاون سے خصوصی ریلیف کمیٹی قائم کی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق حکومت نے متاثرین کی آبادکاری کے لیے اسی علاقے میں 130 کنال اراضی حاصل کرنے کی منظوری دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Aurangzaib Jarral
Image caption ضلعی انتظامیہ نے اس علاقے کے تین کےگاوں محلہ قاضیاں، سہوتر، متھا کو آفت زدہ قرار دے کر ایمرجنسی نافذ کر دی ہے

اس خطے کی حکومت نے متاثرین کو معقول رقم کے علاوہ سات سات مرلے کا پلاٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ ا س علاقے کی 700 کنال زمین لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آئی ہے جس میں اکثر زرعی اراضی تھی۔

زمین دھنسنے سے اس علاقے میں گندم اور ٹماٹر کی فصل کے علاوہ سیب کے درخت بھی تباہ ہو گئے ہیں۔ یہ علاقہ ٹماٹر اور سیب کی پیداوار کے لیے بہت مشہور ہے۔ لینڈسلاڈنگ کے باعث یہاں سے گزرنے والی مرکزی شاہراہ بند ہے جس کی وجہ سے اس سے ملحقہ آبادی کو مشکلات کا سامنا ہے ۔

زمین دھنسنے سے اس علاقے میں موجود پانی کے قدرتی چشمے خشک ہوگے ہیں۔ عینی شائدین کے مطابق حالیہ بارشوں کے بعد زمین میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گیں تھیں۔ متاثرین کے مطابق دو روز قبل اس علاقے کے نیچلے حصے میں غیر معمولی حرکت محسوس کی گی جس کے بعد زمین میں دراڑیں پڑنے کا آغاز ہوا اور گذشتہ روز اس میں اتنی تیزی آئی کہ لوگوں نے گھروں سے بھاگ کر جان بچائی۔

حالیہ بارشوں کے دوران اس خطے میں مختلف مقامات پر مٹی کے تودے گرنے سے دو درجن سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔ بارشوں سے وادی نیلم کے علاقے نکدر بیلہ میں زمین دھنسنے سے 22مکانات تباہ ہو گے تھے۔

ماہرین ارضیات کے مطابق اس خطے میں 2005 کے زلزے کے بعد مٹی کے تودے گرنے کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں