نواز شریف کی وطن واپسی، احتساب کے مطالبے میں شدت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں کرپشن کو ختم کرنے کے حوالے سے جنرل راحیل شریف کے بیان پر سیاسی جماعتوں کے رد عمل میں جہاں دبی دبی زبان میں فوج کے ادارے میں بھی احتساب کی بات کی گئی ہے وہیں حکومت کے احتساب کے مطالبے نے زور پکڑ لیا ہے۔

٭فوج احتساب کی حمایت کرے گی

جنرل راحیل شریف کا بیان ایسے وقت آیا جب وزیر اعظم پاکستان نواز شریف لندن میں علاج کروانے کے بعد منگل کو واپس آسلام آباد پہنچے۔

پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے راحیل شریف کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس معاملے پر پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے جنرل راحیل شریف کے بیان پر اپنے رد عمل میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہر ادارے اور ہر شعبے کا احتساب ہونا چاہیے لیکن وہ شریف خاندان اور وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف الزامات کی فورنزک تحقیقات کے اپنے مطالبے سے بھی پیچھے نہیں ہٹے ہیں۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات اور موجودہ حکومت کے ترجمان پرویز رشید نے جنرل راحیل شریف کے بیان پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے مقامی ذرائع ابلاغ سے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے جمہوریت کا تسلسل ضروری ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ احتساب کی آڑ میں سیاست اور سیاست کی آڑ میں کرپشن کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ وزیر اطلاعات نے اسی بیان میں احتساب کے لیے آزاد اور خود مختار اداروں کی ضرورت کا اعتراف کیا۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے دو ہفتے قبل قوم سے اپنے خطاب میں ایک کمشین تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا لیکن ابھی تک وہ کمیشن تشکیل نہیں پا سکا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سیعد غنی نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ کمشین بن جاتا تو راحیل شریف کو یہ بیان دینے کی ضرورت نہ پیش آتی۔انھوں نے کہا کہ احتساب کرنا فوج کا مینڈیٹ نہیں ہے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ راحیل شریف نے منگل کو کوہاٹ میں ایک عسکری تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ بدعنوانی کو ختم کیے بغیر ملک امن و استحکام ممکن نہیں ہے اور مسلح افواج ہر سطح پر احتساب کو ممکن بنانے کے لیے اقدامات کی حمایت کرے گی۔

پاکستان کے فوج کے سربراہ کا بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب پاناما پیرز کی افشا ہونے والی معلومات کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے بچے بیرون ملک آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں۔ ان حقائق کے سامنے آنے کے بعد حزب اختلاف کی تمام جماعتیں حکمران خاندان پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما تاج حیدر کا کہنا ہے کہ ہر ایک کو اپنے اپنے ادارے سے کرپشن ختم کرنی چاہیے۔

تاج حیدر نے کہا کہ آرمی چیف کو چاہیے کہ وہ اپنے ادارے میں بھی کرپشن کا خاتمہ کریں اور کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

کرپشن کے حوالے فوج کے سربراہ کے بیان پر انھوں نے کہا کہ ’جب تک سیاست میں اسٹیمبلشمنٹ کی مداخلت رہے گی ملک میں کرپشن کم نہیں ہو سکتی ہے۔ جب آپ کو معلوم ہو کہ کرپشن کر کے آپ اُس پار چلیں جائیں گے اور سب معاف ہو جائے گا اُس وقت تک ملک میں بدعنوانی ختم نہیں ہو سکتی ہے۔‘

پیپلز پارٹی کے سینیٹر تاج حیدر کا کہنا ہے کہ ’فوج کی جانب سے اس قسم کے بیانات غیر مناسب ہیں اور میرے خیال میں انھیں اپنے ادارے کو زیادہ ترجیح دینی چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

تحریکِ انصاف کے رہنما شفقت محمود کا کہنا ہے کہ کرپشن سے پاکستان کا بہت نقصان ہوا ہے اور ملک میں کرپشن کے خاتمے کے لیے جو بھی مہم چلائے اُن کی جماعت اُس کا ساتھ دے گی۔

’فوج ملک میں آپریشن کر رہی ہے ملک میں کرپشن سے گورننس کے مسائل پیدا ہوتے ہیں جس سے دہشت گردی بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ فوج ملک کا ادارہ ہے اور انھوں نے بھی کرپشن پر اپنے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔‘

شفقت محمود نے کہا کہ جنرل راحیل کے بیان کو بہت زیادہ باریکی سے سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ پاکستان میں ہر ایک کرپشن کے خلاف بات کرتا ہے اور آگر فوج نے بھی اس پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے تو اس کوئی حیران کن بات نہیں ہے۔‘

متحدہ قومی موومنٹ کے ترجمان امین الحق کا کہنا ہے کہ اُن کی جماعت کرپشن کے خلاف ہے اور ’ایم کیو ایم نے جماعت کے اندر موجود کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی کی ہے۔ہم نے کئی رکن اسمبلی اور بلدیاتی ناظموں کو کرپشن میں ملوث ہونے پر فارغ کیا ہے۔‘

موجودہ حالات میں فوج کے سربراہ کے بیان پر ایم کیو ایم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’کرپشن ختم ہونی چاہیے لیکن ملک میں جمہوریت کی روایت قائم و دائم رہنی چاہیے اور عوام کے مینڈٹ کا احترام کرنا چاہیے۔‘

پاکستان کی حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ جنرل راحیل شریف کے بیان سے دیگر معنی اخد کرنا صحیح نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ آرمی چیف نے اپنے بیان میں ایک معاشرتی برائی کا ذکر کیا ہے۔

جنرل راحیل شریف کی بلا تفریق احتساب کے بیان پر عوامی نیشنل پارٹی کی سینیٹر ستارہ ایاز نے کہا کہ اُن کی پارٹی کا بھی یہی موقف ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہر ادارے میں احتساب ہونا چاہئے اور موجودہ صورتحال میں ہمارا موقف ہے کہ پاناما لیکس کے تناظر میں چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن بنایا جائے کیونکہ حکومت اِس معاملے میں سنجیدہ نہیں۔‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاناما لیکس کے معاملے کی تحقیقات پر حکمران جماعت کی سستی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے آرمی چیف کا یہ بیان زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ الزامات کی تحقیقات کے لیے جلد کمیشن کا اعلان کیا جائے تاکہ کارروائی شروع ہو سکے۔

اسی بارے میں