مردان میں سرکاری دفتر میں خودکش دھماکہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں سرکاری دفتر میں ہونے والے خودکش دھماکے میں حملہ آور ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ دھماکہ منگل کی دوپہر مردان میں محکمۂ ایکسائز کے دفتر میں ہوا۔

مردان کے ڈی پی او فیصل شہزاد نے بی بی سی اردو کے عزیز اللہ خان کو بتایا کہ دھماکہ خودکش تھا اور حملہ آور فائرنگ کرتا ہوا زبردستی دفتر کے اندر داخل ہوا۔

ان کے مطابق حملہ آور نے دفتر کے کمپیوٹر سیکشن میں دھماکہ کیا اور اس کی خودکش جیکٹ میں آٹھ سے دس کلو بارودی مواد موجود تھا۔

ضلعی پولیس افسر نے یہ بھی کہا کہ فائرنگ کی آوازیں سن کر دفتر میں موجود افراد کی بڑی تعداد وہاں سے بھاگ گئی تھی اور اسی وجہ سے جانی نقصان نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دفتر پر حملے کے حوالے سے کوئی الرٹ جاری نہیں کیا گیا تھا۔

دھماکے کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی اور امدادی اداروں کے اہلکار جائے وقوع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

امدای ادارے ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال فیضی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس دھماکے میں 18 افراد زخمی ہوئے ہیں جنھیں ڈسٹرکٹ ہسپتال مردان منتقل کر دیا گیا ہے جہاں دو کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

ان کے مطابق زخمیوں میں ایکسائز کے دو اہلکار اور ایک صحافی بھی شامل ہے۔

کالعدم شدت پسند تنظیم جماعت الاحرار نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

خیال رہے کہ مردان میں ہی گذشتہ برس دسمبر میںنیشنل ڈیٹا بیس اتھارٹی کے دفتر پر بھی خودکش حملہکیا گیا تھا جس میں 26 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں