مشرف کے ناقابل ضمانت وارنٹ، راشد قریشی کے مچلکے ضبط

تصویر کے کاپی رائٹ .

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے ملزم کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سربراہ کو پرویز مشرف کو گرفتار کر کے اگلی سماعت کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

٭ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری

عدالت نے آئین شکنی کے مقدمے میں ملزم پرویز مشرف ان کے ضمانتی میجر جنرل ریٹائرڈ راشد قریشی کے 25 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے بھی ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔

میجر جنرل ریٹائرڈ راشد قریشی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کے علاوہ پرویز مشرف کے صدارتی ترجمان بھی رہے ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم کو عدالت میں پیش کرنا ضمانتی کی ذمہ داری ہے۔

جسٹس مظہر عالم میاں خیل کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے سابق فوجی صدر اور آئین شکنی کے مقدمے کے واحد ملزم پرویز مشرف کی طرف سے حاضری سے استثنٰی کی درخواست مسترد کر دی۔

عدالت نے پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے اور اُنھیں بیرون ملک جانے کی اجازت دینے سے متعلق سیکریٹری داخلہ کا بیان بھی مسترد کرتے ہوئے انھیں سات روز کے اندر اندر تفصیلی جواب جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

سماعت کے دوران خصوصی عدالت نے سیکریٹری داخلہ کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیے کہ عدالت کے بلائے جانے کے باوجود وہ عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوئے۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ سیکریٹری داخلہ چھٹی پر ہیں تاہم عدالت نے اُنھیں اگلی سماعت پر ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے اس مقدمے کے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ پرویز مشرف کو بیرون ملک بھجوانے کی ذمہ داری کس پر عائد کی جائے؟ جس پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کا نام سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ای سی ایل سے نکالا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے بھی لال مسجد کے سابق نائب خطیب عبدالرشید غازی کے قتل کے مقدمے میں بھی سابق فوجی صدر کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔