کراچی میں پولیو مہم کے دوران فائرنگ، سات اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں انسدادِ پولیو مہم کے دوران پولیس پر دو حملوں میں سات پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں جن کی لاشیں عباسی شہید ہسپتال منتقل کردی گئی ہیں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اہلکاروں کو سر پر اور سینے پر گولیاں ماری گئی ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اورنگی بنگلا مارکیٹ اور ڈسکو موڑ کے قریب یہ واقعات پیش آئے ہیں۔

ڈی آئی جی فیروز شاہ نے جائے وقوع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بنگلا مارکیٹ کے قریب چار موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں نے پولیو ٹیم پر حملے کی کوشش کی تو پولیس نے مزاحمت کی جس پر حملہ آوروں نے فائرنگ کردی جس میں تین اہلکار ہلاک ہوگئے۔

فیروز شاہ کے مطابق آگے جاکر نے پولیس موبائل پر حملہ کیا ہے جس میں چار اہلکار نشانہ بنے ہیں، انھوں نے دعویٰ کیا کہ اہلکاروں کو بلٹ پروف جیکٹس پہنی ہوئی تھیں انھیں سر پر گولیاں ماریں گئی ہیں۔

تحریک ِ طالبان پاکستان جماعت الحرار گروپ کے ترجمان احسان اللہ احسان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

پولیس اہلکاروں کو عباسی شہید ہپستال منقتل کیا گیا ہے، جہاں ایم ایل او ڈاکٹر ذکیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس سات لاشیں لائی گئی ہیں۔

ڈی آئی جی فیروز شاہ نے کہا کہ کبھی پولیو کے نام پر کبھی اسکولوں اور یونیورسٹیوں پر حملے ہو رہے ہیں حالیہ حملے بھی اسی سلسلے کی ہی کڑی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پولیو کے خلاف مہم 18 اپریل سے شروع ہوئی تھی، جس کے دوران 22 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا

اورنگی ٹاؤن میں پولیو کی مہم میں شامل ایک ورکر نے بتایا کہ اس واقعے کی بعد ان کو انتظامیہ نے مہم بند کر کے سب کو محتاط رہنے اور گھر لوٹ جانے کا کہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیو ٹیم پر کراچی اور ملک کے ہر علاقے میں حملے ہو رہے ہیں۔

’یہ واقعات کس کی بدانتظامی ہے کس چیز کی کمی ہے اوپر والا ہی جانتا ہے ہم تو صرف اپنی ڈیوٹی کر رہے ہیں، ان واقعات پر جن کو قابو پانا ہے وہ خود یہ فیصلہ کریں کہ یہ انہیں کرنا ہے یہ کوئی اور آکر کرے گا۔‘

اس پولیو ورکر کا کہنا تھا کہ انھوں نہ کبھی ایسی حالات کا سامنا نہیں کیا اور وہ دعا کرتے ہیں کہ ان کے کبھی ایسے حالات سے سامنا بھی نہ ہوں۔

کراچی پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سولہ ماہ میں اب تک حملوں اور فائرنگ کے واقعات میں 95 پولیس اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔ حملے کا نشانہ بننے والے بعض اہلکار سندھ کے دیگر شہروں سے تعینات کیے گئے تھے۔

شہر میں بدھ کو پولیو مہم کا آخری دن تھا۔ یہ مہم 18 اپریل سے شروع ہوئی تھی، جس کے دوران 22 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں