’شدت پسندوں کے بدلتے ہتھکنڈے‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa

خیبر پختونخوا کے شہر مردان اور پشاور میں سرکاری دفاتر اور سرکاری ملازمین پر حملے شدت پسندوں کی بدلتی پالیسیوں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے سہولت کار اب شہروں میں موجود ہیں اس لیے وہ اہداف حاصل کرنے کے لیے سرکاری دفاتر اور ملازمین پر حملے کر رہے ہیں۔

سکول حملے کے بعد بڑا نشانہ خیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور اور اس کے قریبی ضلع مردان میں چار مہینوں سے کم وقت میں سرکاری دفاتر اور سرکاری ملازمین پر تین خود کش دھماکے ہو چکے ہیں جن میں 42 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ضلع مردان میں گذشتہ روز ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے دفتر میں خود کش حملہ اس شہر میں چار مہینوں میں دوسرا بڑا حملہ تھا۔

اس سے پہلے دسمبر کے مہینے میں شناختی کارڈ بنانے والے ادار ے نادرا کے دفتر پر حملہ کیا گیا تھا۔ جبکہ گذشتہ ماہ کے وسط میں پشاور کے مصروف علاقے صدر میں سرکاری ملازمین کی بس میں دھماکہ کیا گیا تھا۔

ان دھماکوں سے شدت پسندوں کی بدلتے ہتھکنڈوں کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

مردان سے مقامی صحافی عبدالستار نے بتایا کہ مردان میں پہلے بھی سرکاری اہلکاروں پر حملے ہو چکے ہیں ان میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption کے پی کے پولیس میں شامل خواتین ٹریننگ کرتے ہوئے

مردان کے حالات میں اُس وقت زیادہ کشیدگی پائی جاتی تھی جب سوات آپریشن سے پہلے خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت نے طالبان سے مذاکرات شروع کیے تھے اور اُس وقت ایسے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ طالبان مردان کے قریبی علاقوں تک پہنچ چکے ہیں۔

طالبان سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد حکومت کی جانب سےسوات آپریشن شروع کر دیا گیا تھا۔

آپریشن کے بعد بھی مردان میں حالات کشیدہ رہے جب فروری 2011 میں آرمی ٹریننگ سینٹر پر حملہ کیا گیا تھا اس میں36 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اسی طرح جون سال 2009 میں سڑک کنارے دھماکے میں پانچ پولیس اہلکار اور آرمی کے ایک افسر ہلاک ہو گئے تھے۔

مقامی صحافی عبدالستار کے مطابق علاقے میں شدت پسندوں کے سہولت کار موجود ہیں جن کے خلاف پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکار آپریشن کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مردان کی سرحدیں قبائلی علاقوں سے ملتی ہیں اور یہاں شدت پسندوں کے سہولت کار موجود ہیں جن کے خلاف سکیورٹی فورسز نے کارروائیاں کی ہیں اور اس میں بڑی گرفتاریاں بھی کی گئی ہیں۔

معروف تجزیہ کار پروفیسر ڈاکٹر خادم حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ شدت پسند اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے رہے ہیں اور اس کا مقصد اپنے اہداف حاصل کرنا ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ان حملوں کا مقصد سرکاری ملازمین کو خوف زدہ کرنا ہوتا ہے: مبصرین

ان کا کہنا تھا کہ سرکاری دفاتر پر حملے سے ایک تو ان اداروں کو اپنے کام سے روک دیتے ہیں کہ وہ اس شدت پسندوں کی نشاندہی یا ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہ کر سکیں۔ اس کے علاوہ اس کا مقصد سرکاری ملازمین کو خوف زدہ کرنا ہوتا ہے تاکہ دیگر ملازمین اس طرح کی کوئی کوشش نہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کے نیٹ ورک کو توڑنے میں اب تک سکیورٹی فورسز کے اہلکار کامیاب نہیں ہوئے یا ان میں ان کو ختم کرنے کی شاید مکمل اہلیت نہیں ہے۔

خیبر پختونخوا میں شدت پسندوں اور دیگر جرائم پیشہ افراد کے خلاف حملوں اور سرچ آپریشن کے علاوہ دیگر کارروائیاں جاری ہیں۔

خیبر پختونخوا میں پولیس کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔

مبصرین سمجھتے ہیں کہ ان شدت پسندی کے خاتمے کے لیے سہولت کاروں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں