مہمند ایجنسی دھماکے میں امن لشکر کے سابق اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بعض مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں ایک فرنٹیر کور کے اہلکار بھی شامل ہیں تاہم سرکاری طورپر اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ طالبان مخالف امن لشکر کے سابق اہلکار پر ہونے والے ایک بم دھماکے میں ان سمیت دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ بدھ کو مہمند ایجنسی کی تحصیل پنڈیالی میں حاجی کور دویزئی میں پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ امن لشکر کے سابق اہلکار ملک رحیم اپنے ساتھی کے ہمراہ موٹر سائیکل پر جارہے تھے کہ اس دوران سڑک کے کنارے نصب ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کا نشانہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں لشکر کے رہنما سمیت دونوں افراد ہلاک ہوگئے۔

بعض مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں ایک فرنٹیر کور کے اہلکار بھی شامل ہیں تاہم سرکاری طورپر اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

مقامی لوگوں کے مطابق قبائلی رہنما ملک رحیم علاقے میں طالبان مخالف امن لشکر کے سرگرم رکن رہے ہیں۔

ادھر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان جماعت الحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک ای میل پیغام کے ذریعے سے اس حملے کی ذ مہ داری قبول کرلی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے ملک بھر میں شدت پسند تنظیم جماعت الحرار کی کارروائیوں میں تیزی دیکھی جارہی ہے۔

اس سے پہلے بدھ کو کراچی میں پولیس اہلکاروں اور مردان میں سرکاری دفتر پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری بھی اسی تنظیم کی جانب سے قبول کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ مہمند ایجنسی میں گذشتہ کچھ عرصہ سے ایک مرتبہ پھر شدت پسند کے حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بیشتر حملوں میں سکیورٹی اہلکار اور طالبان مخالف امن کمیٹیوں کے رضاکار نشانہ بنے ہیں۔

فاٹا میں حالیہ وقتوں میں مہمند ایجنسی واحد ایسا علاقہ ہے جہاں تشدد کے واقعات تسلسل سے جاری ہیں جبکہ دیگر قبائلی علاقوں میں سکیورٹی کی صورتحال میں کافی حد تک بہتری نظر آرہی ہے۔

مہمند ایجنسی میں چند سال پہلے سکیورٹی فورسز کی طرف سے ہونے والی کارروائیوں کے نتیجے میں علاقے سے شدت پسندوں کے تمام ٹھکانے ختم کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ مہمند سے بے دخل کیے جانے والے بیشتر عسکری تنظیموں نے سرحد پار افغانستان کے علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ تاہم علاقے میں ہدف بناکر قتل کے واقعات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

اسی بارے میں