راحیل شریف کا بیان اداریوں سے غائب

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جنرل راحیل شریف کا بیان پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا میں خبروں اور سیاسی مباحث کا اہم موضوع بنا رہا تھا

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے بدعنوانی کے خاتمے کے حوالے سے بیان کو بدھ کو شائع ہونے والے پاکستانی اخبارات میں شہ سرخیوں میں جگہ دی گئی ہے، تاہم اس کے برعکس بیشتر اخبارات کے اداریوں میں اس پر تبصرہ نہیں کیا گیا۔

بدھ کو شائع ہونے والے بیشتر انگریزی اور اردو روزناموں کی شہ سرخیاں ’ملکی سلامتی کے لیے بلاامتیاز احتساب ضروری‘ اور ’بلا امتیاز احتساب ہونا چاہیے،‘ اور ’فوج حمایت کرے گی‘ تھیں۔

خیال رہے کہ منگل کو جنرل راحیل شریف نے فوج کے سگنل رجمنٹ سینٹر کوہاٹ کا دورہ کیا تھا اور اس موقعے پر خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ بدعنوانی کو ختم کیے بغیر ملک امن و استحکام ممکن نہیں ہے اور مسلح افواج ہر سطح پر احتساب کو ممکن بنانے کے لیے اقدامات کی حمایت کرے گی۔

جنرل راحیل شریف کا یہ بیان پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا میں خبروں اور سیاسی مباحثوں کے پروگراموں کا اہم موضوع بنا رہا تھا۔

پاناما لیکس اور وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں کے لندن میں جائیداد کے بارے میں متضاد بیانات کے بعد ملک میں پیدا ہونے والی سیاسی ہلچل میں جنرل راحیل شریف کے بیان سے مزید تیزی آ گئی۔

بیشتر اخبارات نے جنرل راحیل شریف کے بدعنوانی کے خاتمے سے متعلق بیان کے بجائے ان کے شمالی وزیرستان کے دورے اور ان کے ’دہشت گردوں سے 800 کلومیٹر کا علاقہ چھڑوانے‘ کے بیان کو اپنے اداریوں کا موضوع بنایا ہے۔

روزنامہ ایکسپریس اپنے اداریے میں لکھتا ہے کہ ’بلاشبہ پاکستان میں دہشت گردی اور بدعنوانی کا گہرا تعلق ہے اور جب تک اس تعلق کو توڑا نہیں جاتا، اس وقت تک وطن عزیز کو جدیدیت اور روشن خیالی کی راہ پر نہیں لایا جا سکتا۔ پاک فوج نے حالیہ برسوں میں دہشت گردوں کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔‘

اخبار مزید لکھتا ہے کہ ’دہشت گردوں کو زندہ رکھنے میں بھی بدعنوانی کا ایک اہم کردار ہے۔ ظاہر ہے کہ ملک میں موجود دہشت گردوں کے مختلف گروپ اس وقت تک کام نہیں کر سکتے جب تک انھیں کہیں سے مالی تعاون اور چھپنے کے لیے محفوظ جگہ نہیں ملتی۔ پاکستان میں اب یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ بدعنوانی اور دہشت گردی کا گہرا تعلق ہے، اس تعلق کو توڑنا انتہائی ضروری ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی مفاہمت ملک کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption پیر کو جنرل راحیل شریف نے شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں جاری فوجی آپریشن کی کامیاب تکمیل کا اعلان کیا تھا

روزنامہ جہان پاکستان نے بھی اپنے اداریے میں جنرل راحیل شریف کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’یہ آپریشن اسی رفتار سے جاری رہا تو بہت جلد دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا لیکن یہ تمام حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ قومی قیادت نے اسی جذبے کے ساتھ بدعنوانی کے کینسر کا آپریشن نہ کیا تو نہ صرف دہشت گردوں اور شدت پسدنوں کے نئے گروہ منظرعام پر آ جائیں گے بلکہ لاقانونیت کا ایک خوفناک سلسلہ ہماری سماجی زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘

اخبار مزید کہتا ہے کہ ’اس وقت بھی جنوبی پنجاب میں چھوٹو گینگ کے نام سے ڈاکوؤں کے جس گروہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پریشان کن صورت حال میں مبتلا رکھا ہے، یہ قانون کی حاکمیت کے خلاف بدعنوانی پر مبنی سوچ کی من مانیوں ہی کا نتیجہ ہے۔‘

ا نگریزی روزنامے پاکستان ٹوڈے نے وزیراعظم پاکستان کے دورہ لندن اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی حکومت کی جانب سے پاناما پپیرز کی تحقیقات کے لیے تحقیقاتی کمیشن کے لیے ریٹائرڈ جج کی سربراہی کو مسترد کرنے کو موضوع بنایا ہے، تاہم اداریے میں جنرل راحیل شریف کی جانب سے ملکی سلامتی کے لیے بلا امتیاز احتساب کے بیان کو بھی سنجیدہ لینے پر بھی زور دیا ہے۔

اسی بارے میں