’مبینہ انڈین جاسوس سے متعلق تفصیلات عام نہیں کی جا سکتیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption اجلاس کے دوران پاکستان کی وزارتِ خزانہ نے ایوان کو بتایا کہ بین الاقوامی سرحدوں پر کسٹمز کے عملے کی کمی کی وجہ سے نامعلوم راستوں سے اسلحے کی اسمگلنگ کی جاتی ہے

پاکستان کے ایوانِ بالا کو بتایا گیا کہ بلوچستان سے گرفتار مبینہ انڈین جاسوس کا معاملہ ابھی زیرِ تفتیش ہے اور اس سے متعلق تفصیلات عام نہیں کی جا سکتیں۔

ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کے اجلاس میں بدھ کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں کارروائی کرنے والے ریسرچ اینڈ انالسز ونگ (را) کے مبینہ جاسوس کی گرفتاری پر پاکستان تحریک انضاف کے سینیٹر محمد اعظم خان سواتی نے تحریک التوا پیش کی۔

جس کے جواب میں ایوان کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ یہ معاملہ قومی سلامتی سے متعلق ہے اور فی الحال گرفتار ملزم تفتیش جاری ہے لہٰذا اِس کی تفصیلات منظرِ عام پر نہیں لائی جا سکتیں۔

اجلاس کے دوران پاکستان کی وزارتِ خزانہ نے ایوان کو بتایا کہ بین الاقوامی سرحدوں پر کسٹمز کے عملے کی کمی کی وجہ سے نامعلوم راستوں سے اسلحے کی اسمگلنگ کی جاتی ہے۔

ایسے علاقوں میں فیڈرل بیورو آف ریونیو نے پاکستان رینجرز، فرنٹیئر کور، پولیٹیکل انتظامیہ اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کو اختیارات دیے ہو ئے ہیں تاکہ وہ اسلحے اور دیگر اشیا کی سمگلنگ کے خلاف کارروائی کر سکیں۔

Image caption اسحاق ڈار کے مطابق چونکہ حکومت مالیاتی خسارے میں چل رہی ہے لہٰذا قرضہ واپس کرنے کے بجائے مقامی مارکیٹ سے نئی شرائط پر دوبارہ قرضہ لیا گیا ہے

پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں حکمران جماعت کی سینیٹر راحیلہ مگسی کے سوال پر تحریری جواب دیتے ہوئے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ رواں سال مارچ تک ملک کے اندر اسلحے کی نقل و حمل کے دوران چھاپے مار کر برآمد کیے گئے اسلحے اور دیگر سامان کی کُل قیمت نو ارب 95 کروڑ سے زیادہ ہے جبکہ مالی سال 13-2012 کے دوران یہی قیمت پانچ ارب 32 کروڑ تھی۔

یہ بات بھی تسلیم کی گئی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے پاکستان افغانستان سرحد پر نگرانی میں اضافے کی ضرورت ہے اور اِسی تناظر میں طورخم کسٹم اسٹیشن پر غیر دستاویزی اشیا کی اسمگلنگ پر نظر رکھنے کےلیے کسٹمز بارڈر انفورسمنٹ یونٹ قائم کیا گیا ہے۔

ایوانِ بالا کے اجلاس کی کارروائی کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے توجہ دلاؤ نوٹس میں پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین کی گذشتہ پانچ ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر وزیر برائے صنعت و پیداوار کی توجہ مبذول کرائی جس پر منسٹر انچارج نے یہ بات تسلیم کی کہ پانچ ماہ سے ادائیگیاں نہیں کی گئی ہیں اور سٹیل ملز دس جون 2015 سے بند ہے۔

اسی بارے میں