فوجیوں کی برطرفی: پہلے ایسے نہیں ہوا

تصویر کے کاپی رائٹ APP

پاکستانی فوج نے اپنے چھ افسران کو کرپشن کی بنا پر ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا ہے۔ نہ تو کرپشن کی نوعیت اور تفتیشی عمل کے بارے میں بتایا گیا ہے اور فی الحال برطرف کیے جانے والے افسران کی تعداد کے بارے میں بھی ابہام پایا جاتا ہے۔

٭’فوج ہر سطح پر احتساب کرے گی‘

فوج پر کرپشن کے الزامات کوئی نئی بات نہیں۔ بات اراضی کی ہو، ہاؤسنگ سکیم کی یا سرمایہ کاری کی یا پھر اختیارات کے استعمال اور فنڈز میں خرد برد کی یہ الزامات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

لیکن فوج کی صفوں میں ایک ہی بار میں اتنی بڑی تعداد میں کرپشن کے الزامات پر نہ صرف اپنے افسران کو برطرف کرنا اور اس خبر کو عام کیا جانا ایک ایسا عمل ہے جس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی۔

فوج کا ہمیشہ یہ دعویٰ رہا ہے کہ فوج کے اندر خود احتسابی کا ایک نظام موجود ہے اور یہ عمل جاری رہتا ہے۔ لیکن فوج کے اندر کی جانے والی خود احتسابی کو کبھی منظر عام پر نہیں لایا گیا۔

ماضی قریب پر نظر دوڑائیں تو نیشنل لوجسٹک سیل یعنی این ایل سی کا کیس ان چند کرپشن کیسز میں سے ایک ہے جو سامنے آئے اور جن میں فوجی افسران کو سزا ہوئی تاہم اس کرپشن کیس کے لیے اہم کوشش پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی تھی جو سنہ 2009 میں بنی۔

اس عرصے میں یہ بات الزام سامنے آیا تھا کہ تین جرنیلوں نے سنہ 2004 سے 2007 تک سٹاک مارکیٹ سمیت مختلف شعبوں میں جو سرمایہ کاری کی اس سے این ایل سی کو ایک ارب 80 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

لیکن پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور فوج کے درمیان یہ کیس ایک تنازع بن کر طوالت اختیار کر گیا تھا اور بلآخر اس میں جیت فوج کی ہی ہوئی تھی۔

اس کمیٹی کی سابقہ رکن یاسمین رحمٰن بتاتی ہیں کہ ’فوج چاہتی تھی کہ وہ خود انکوائری کرے تاہم ایک سال تک انتظار کرتے رہے مگر فوج کی جانب سے کوئی احتسابی رپورٹ نہیں ملی۔‘

اگست سنہ 2015 میں فوجی حکام نے بتایا کہ این ایل سی میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کی تحقیقات کی روشنی میں دو فوجی جرنیلوں کو فوج سے برخاست کر کے ان کی تمام مراعات واپس لے لی گئی ہیں۔

فوج کی ہاؤسنگ سوسائٹیز پر بھی سوالات کئی بار اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

سنہ 2011 میں سپریم کورٹ میں ازخود نوٹس کے تحت چلنے والا ریلوے لینڈ کیس اس کی ایک مثال ہے جس میں تین سابقہ جرنیلوں سے جواب طلبی کی گئی تھی۔یہ کیس اب بھی زیرِ التوا ہے۔

دفاعی امور کے ماہر پروفیسر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ اسی سے نوے کی دہائی تک فوج پارلیمانی کمیٹیوں کے سامنے جانے سے ہچکچاتی تھی تاہم جنرل کیانی کے دور میں تبدیلی نظر آئی۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ اب بھی فوج اپنے قواعد کے تحت محکمانہ کارروائی کرنا چاہتی ہے اور اپنے سسٹم کو ہی صحیح مانتی ہے تاہم حالت اب پہلے سے کچھ مختلف ضرور ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں