’بلوچستان میں ایسا کوئی خطرہ نہیں کہ فوج استعمال کریں‘

Image caption میں حیران ہوں کہ وہ کون سے بلوچ ہیں اور ان کمیشنوں کے پاس کیا پیرا میٹر ہے لوگوں کی رائے کو جانچنے کا: سرفراز بگٹی

حقوق انسانی کے ادارے ایشین ہیومن رائٹس آرگنائزیشن نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ صوبہ بلوچستان میں مبینہ فوجی آپریشن میں تیزی لائی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ 2001 سے بلوچستان میں ’فوجی آپریشن‘ کررہی ہے جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر پہلے سے لاپتہ کیے گئے افراد کی لاشیں روزانہ کی بنیاد پر مل رہی ہیں۔

تاہم بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے اس رپورٹ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے کسی کونے میں بھی فوجی آپریشن نہیں ہورہا ہے۔ ’اگرچہ فوج کا استعمال کرنا کوئی غلط بات نہیں لیکن خطرے کی نوعیت کو دیکھ کر ریاست فوج کو استعمال کرتی ہے۔ لیکن بلوچستان میں ہمیں ایسا کوئی خطرہ نہیں کہ ہمیں فوج کو استعمال کرنا پڑے۔‘

ایشین ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مقامی آبادی کے جانب سے ’مزاحمت کو بغاوت اور قومی سلامتی کے لیے خطرے‘ سے تعبیرکیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے کی مخالفت کو فوجی آپریشن تیز کرنے کے ایک بہانے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

اپریل کے مہینے میں ضلع قلات کے علاقے جوہان سے 34 افراد کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان میں سے صرف چھ عسکریت پسند تھے اور باقی مارے جانے والے عام شہری تھے۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچ اقتصادی راہداری کے منصوبے کے خلاف نہیں ہیں۔ ’میں حیران ہوں کہ وہ کون سے بلوچ ہیں۔ ان کمیشنوں کے پاس کیا پیرا میٹر ہے لوگوں کی رائے کو جانچنے کا۔ یہ کہاں بیٹھ کر اس طرح کی رپورٹیں بناتی ہیں۔‘

انہوں نے قلات کے علاقے جوہان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں عام شہریوں کی ہلاکت کے الزام کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مارے جانے والے سکیورٹی فورسز سے فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے اور وہ شرپسند تھے۔

اسی بارے میں