فوج کا ٹی20 میچ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بیان میں نہ پاناما کا ذکر تھا اور نہ کسی کے خاندان کے بیرون ملک اثاثوں کا حوالہ۔ مختصر الفاظ میں مطلب تھا کہ بس بہت کرپشن ہو گئی

پاکستان میں بدعنوانی کے خلاف جاری میچ کو سیاست دان تو یقیناً پانچ روزہ ٹیسٹ میچ سمجھ کر کئی دہائیوں سے کھیل رہے تھے لیکن فوج کی جانب سے اپنے چھ اعلیٰ اہلکاروں کے خلاف کارروائی نے اسے ٹی 20 کا کھیل بنا دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر اس سنسنی خیز چھکے نے جنرل راحیل شریف کو ایک مرتبہ پھر سب سے بڑا ٹرینڈ بنا دیا ہے۔

٭بدعنوانی کے الزام میں 11 فوجی افسران برطرف

٭’فوج ہر سطح پر احتساب کی حمایت کرے گی‘

پاکستان فوج کی تاریخ رہی ہے کہ کبھی کوئی کام بغیر سوچے سمجھے نہیں ہوتا، اور وہاں اندرونی سوچ بچار کے میکینزم بڑے جاندار اور جامع رہے ہیں۔

پچ جیسی بھی ہو فوج اس کا استعمال انتہائی مہارت سے کرتی ہے۔ چھ اعلیٰ اہلکاروں کی برطرفی یقیناً کوئی ایسا فیصلہ نہیں تھا جو یک لخت سامنے آگیا ہو۔ اس کے لیے جنرل راحیل شریف نے گذشتہ دنوں اپنے دورہ شمالی وزیرستان کے دوران ہی پچ ہموار کر دی تھی۔

کوہاٹ میں سپاہیوں سے خطاب کے دوران پورے ملک میں بلا امتیاز مالی احتساب کے بیان پر حیرت واجب تھی۔ ہر کوئی اسے پاناما لیکس کے ساتھ جوڑ رہا تھا، لیکن دراصل جنرل راحیل کے ذہن میں ان افسران کی سمری تھی جس پر وہ شاید ہیلی کاپٹر پر سوار ہونے سے پہلے دستخط کر آئے تھے۔

اس بیان نے حسب معمول پاکستانی میڈیا کو طوفان کی صورت نرغے میں لے لیا۔ پاناما لیکس کے موضوع کو نئی زندگی مل گئی جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میڈیائی زبان کے مطابق ’پرانا‘ ہوتا جا رہا تھا۔

انھوں نے اس موضوع پر ملک کے سب سے طاقتور ادارے کی رائے دو ٹوک انداز میں واضح کر دی تھی۔ اس وقت فوج بولنگ کروا رہی تھی اور فوجی سربراہ نے ایسی گگلی کروائی کہ کچھ نہ کہتے ہوئے بھی سب کچھ کہہ دیا۔

بیان میں نہ پاناما کا ذکر تھا اور نہ کسی کے خاندان کے بیرون ملک اثاثوں کا حوالہ۔ مختصر الفاظ میں مطلب تھا کہ بس بہت کرپشن ہو گئی۔

اکثر لوگوں کی رائے میں فوج نے اپنی تاریخ میں ایسا میچ پہلی مرتبہ سب سے سامنے کھیل کر غیرمعمولی قدم اٹھایا ہے۔

اس سے قبل جب بھی فوج کے اندر احتساب کے بارے میں سوال ہوتے تھے تو کہا جاتا تھا کہ یہ مسلسل عمل ہے جو ہر وقت جاری رہتا ہے۔ اسے سرعام محض اس لیے نہیں کیا جاتا کہ اس سے فوج کے وقار اور مورال پر انتہائی منفی اثر پڑے گا۔

لیکن فوج نے کھل کر برطرفیوں کا اعلان کر کے ماضی کی تاریخ تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے مورال پر اثر انداز ہونے کا بیانیہ بھی تبدیل کر دیا ہے۔ وہ بھی ایک ایسے وقت جب جنرل راحیل نے ایک اور بیان میں دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کے دائرے کو قبائلی علاقوں کے علاوہ دیگر علاقوں تک پھیلانے کا حکم دیا تھا۔

جنرل راحیل کی کئی چیلنجوں سے بیک وقت نمٹنے کی ان کوششوں کو نیک نیتی سے دیکھا جا رہا ہے، لیکن ساتھ میں امید کی جا سکتی ہے کہ مختلف علاقوں میں اراضی کا مبینہ غلط استعمال جیسے کیسوں کا بھی کچا چٹھا بھی سامنے لائے گی۔ شفافیت کے فوائد سے شاید ہی کسی کو انکار ہو۔

جنرل صاحب کی واہ واہ ہو رہی ہے لیکن اب گیند سیاست دانوں کے کورٹ میں ہے۔

تحریک انصاف کے رہنما عمران خان تو لندن بڑا چرچا کر کے گئے تھے کہ آف شور کمپنیوں کے کھاتوں کے ماہرین سے مشورہ کرنے جا رہے ہیں لیکن واپسی پر کوئی زیادہ پرعزم دکھائی نہیں دے رہے۔

اس تمام بحث میں اس پر بات اب بھی نہیں ہو رہی ہے کہ ٹیکس بچانے اور ملکی سرمایہ باہر لے جانے والوں سے کیسے نمٹا جائے۔

اب دیکھنا ہے کہ نواز شریف کی ٹیم مسلم لیگی ٹائیگرز کس طرح کھیلتی ہے۔ کیونکہ میچ ابھی جاری ہے۔

اسی بارے میں