اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد متعدد زیرِحراست، پولیو مہم جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں پولیو کے کارکنوں کے خلاف پرتشدد واقعات میں 2012 سے اب تک دس پولیس اہلکار اور سات رضاکار ہلاک ہو چکے ہیں

کراچی میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور سات پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد پولیس نے دس سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ شہر میں پولیو کی مہم جاری ہے۔

کمشنر کراچی آصف حیدر شاہ کا کہنا ہے کہ پچھلے روز حملے کا نشانہ پولیو کے کارکن نہیں، بلکہ پولیس اہلکار تھے۔

پاکستان بازار تھانے پر سرکار کی مدعیت میں ساتوں پولیس اہلکاروں کے قتل کا مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے، جس کے بعد انسدادِ دہشت گردی کا محکمہ اس حملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

اس سے قبل ڈی جی رینجرز بھی پولیس کے ساتھ مشترکہ تحقیقات کا اعلان کر چکے ہیں۔

ڈی آئی جی فیروز شاہ نے کہا کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے گولیوں کے خول کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ اسلحہ شہر میں 17 کے قریب وارداتوں میں استعمال کیا گیا ہے۔

یہ وارداتیں پاکستان بازار، اقبال مارکیٹ اور اورنگی کے دیگر علاقوں میں پیش آئی ہیں۔

بدھ کے روز اورنگی کے علاقے بنگلہ مارکیٹ اور ڈسکو موڑ کے قریب دو حملوں میں سات پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے، جن کی نمازِ جنازہ گذشتہ شب ادا کی گئی۔

حملے میں ہلاک ہونے والے چار پولیس اہلکاروں کی میتیں گھوٹکی اور دو کی سانگھڑ روانہ کی گئی ہیں جبکہ ایک کا تعلق کراچی کے علاقے کورنگی سے تھا۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں پولیو کے کارکنوں کے خلاف پرتشدد واقعات میں 2012 سے اب تک دس پولیس اہلکار اور سات رضاکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب شہر کے تمام علاقوں میں چوتھے روز بھی پولیو مہم جاری ہے، سات ہزار رضاکار اس مہم میں شریک ہیں جن کی حفاظت کے لیے پانچ ہزار اہلکار تعینات ہیں۔

پولیس کے علاوہ بعض علاقوں میں رینجرز بھی نگرانی کر رہی ہے۔

اسی بارے میں