بھٹک جانے والی خاتون انڈیا کے حوالے

Image caption پاکستان اور اس کے زیرانتظام کشمیر کے حکام کی جانب سے شکیلہ کو تحائف بھی دیے گئے

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے دو سال قبل لائن آف کنٹرول عبور کر کے آنے والی 30 سالہ شکیلہ بانو کو پاکستانی حکام نے کمان پل چکھوٹی پر بھارتی حکام کے حوالے کر دیا۔

پاکستان کے زیر انتطام کشمیر کے سرحدی علاقے چکھوٹی میں تعینات پولیس آفیسر راجہ سہیل کے مطابق شکیلہ بانو انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کےگاؤں اچھلنکا اوڑی سے دو سال قبل لائن آف کنڑول عبور کر کے ضلع حویلی کے علاقے بھیڈی آئی تھیں۔

پولیس کے مطابق شکیلہ نے یہ قدم والدین سے ناراضگی کی وجہ سے اٹھایا تھا۔

صحافی اورنگزیب جرال کے مطابق پاکستانی حکام نے شکیلہ بانو کو مقامی پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے جس کے بعدانھوں نے ضلع باغ میں قائم پناہ گزین کیمپ میں اپنے چچا کے خاندان کے ہمراہ دو سال گزارے۔

راجہ سہیل کے مطابق شکیلہ بانو نے رواں ماہ پاکستانی حکام کے ذریعے انڈین حکام سے رابطہ کیا اور واپسی کی درخواست کی تھی۔

پاکستانی حکام نے جذبہ خیرسگالی کے تحت شکیلہ بانو کو لائن آف کنڑول کے علاقے چکھوٹی میں واقع کمان پل پر بدھ کے روز انڈین حکام کے حوالے کیا۔

اس موقع پر شکیلہ کی ماں رشیدہ بیگم اور بھائی جاوید احمد کے علاوہ پاکستان اور انڈیا کے زیرانتطام کشمیر کی مقامی ضلعی انتظامیہ بھی موجود تھی۔ پاکستان اور اس کے زیرانتظام کشمیر کے حکام کی جانب سے شکیلہ کو تحائف بھی دیے گئے۔

پاکستان اورانڈیا کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت چکوٹھی میں قائم کمان پل کو سنہ 2005 میں سرحد کے دونوں اطراف منقسم خاندانوں کے سفر اور تجارت کے لیے کھول دیا گیا تھا۔

سنہ 2002 میں دونوں ممالک کے درمیان لائن آف کنڑول پر فوجی کشیدگی ختم کرنے کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا جس کے بعد غلطی سے سرحد عبور کرنے والے عام کشمیری شہریوں کے آپس میں تبادلے کا معاہدہ بھی طے پایا تھا۔

اسی بارے میں