ڈیرہ اسماعیل خان سے طالبان گروپ کا رہنما گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس کے مطابق ملزم عبدالرحمان کو گذشتہ روز کلاچی کے قریب مڈی روڈ سے گرفتار کیا گیا

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے گنڈا پور گروپ کے ایک اہم رکن کو گرفتار کیا ہے۔

صوبائی حکومت نے گرفتار ہونے والے اس رکن کےسر کی قیمت پانچ لاکھ روپے مقرر کی تھی۔

گنڈا پور گروپ اس علاقے میں ایک عرصے سے متحرک تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم عبدالرحمان کو گذشتہ روز کلاچی کے قریب مڈی روڈ سے گرفتار کیا گیا اور ان کے قبصے سے ایک دستی بم، ایک پستول اور دس کارتوس برآمد ہوئے۔

ملزم عبدالرحمان اغوا برائے تاوان اور دہشت گردی کی مختلف وارداتوں میں کلاچی پولیس کو سنہ 2014 سے مطلوب تھا۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلعی پولیس افسر یاسر آفریدی نے گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ اس علاقے میں یہ گرفتاری پولیس کی ایک بڑی کامیابی ہے۔

خیال رہے کہ صوبے کے دیگر علاقوں میں جاری سٹرائیک اینڈ سرچ آپریشن میں شدت پسندی کے واقعات میں مطلوب ملزمان بھی گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان گنڈا پور گروپ کلاچی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک عرصے سے متحرک تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق اس گروپ کی بنیاد سنہ 2007-2006 میں رکھی گئی تھی۔ ابتدا میں یہ گروپ افغانستان میں اپنی کارروائیاں کرتا رہا لیکن بعد میں اس گروپ نے کلاچی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں اپنی کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ابتدا میں مفتی شفیق، قاری عمران اور شہاب نامی افراد اس گروپ کے قیادت کرتے رہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ مفتی شفیق اور قاری عمران ایک مدرسے سے فارغ التحصیل تھے۔

اس گروپ نے سنہ 2009 کے بعد اسی علاقے میں کارروائیاں شروع کر دی تھیں جن میں یہ امیر لوگوں سے بھتہ وصول کرتے تھے۔ اس گروپ کا تعلق مقامی سطح پر دیگر شدت پسند گروہوں سے بھی تھا۔

اس گروپ کا اہم رکن قاری عمران پولیس کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارا گیا تھا۔ اس کے بعد اسی گروپ کے عمران گنڈا پور نامی رکن متحرک ہو گئے تھے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ اس گروپ کے ارکان ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس اور دیگر افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بھی ملوث رہے۔

اس گروپ کی بڑی کارروائیوں میں سنہ 2011 میں کلاچی تھانے پر حملہ تھا جس میں ایک خاتون حملہ آور بھی شامل تھی۔ اس حملے میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں