پرویز مشرف کی میڈیکل رپورٹ’جعلی‘ ہے: عدالت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ اس ماہ کی ہے جبکہ سابق فوجی صدر مارچ کے مہینے میں بیرون ملک چلے گئے ہیں

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سپریم کورٹ سمیت اعلی عدلیہ کے ججز کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمے کے ملزم سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی صحت سے متعلق جمع کروائی گئی رپورٹ کو جعلی قرار دیا ہے اور عدالت کی طرف سے ملزم کے جاری کیے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کو برقرار رکھا ہے۔

عدالت نے وفاقی دارالحکومت کی پولیس کے سربراہ کو حکم دیا ہے کہ وہ ملزم کو اس مقدمے کی آئندہ سماعت یعنی 20 مئی کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کریں۔

* مشرف کو باہر کیوں جانے دیا گیا؟

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج سہیل اکرام نے اس مقدمے کی سماعت شروع کی تو ملزم پرویز مشرف کے وکیل کی طرف سے گذشتہ سماعت کے دوران اپنے موکل کی صحت سے متعلق پیش کی گئی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ اس ماہ کی ہے جبکہ سابق فوجی صدر مارچ کے مہینے میں بیرون ملک جاچکے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ایسی صورت حال میں ملزم کو کسی طور پر بھی حاضری سے استثنیٰ نہیں دیا جاسکتا۔ سابق فوجی صدر کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اُن کے موکل کی مناسب سکیورٹی کا بندوبست کرنے کی یقین دھانی کروائے تو پرویز مشرف عدالت میں پیش ہونے کو تیار ہیں۔ اس پر انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ گذشتہ دو سال سے عدالت میں پیش نہیں ہوئے تو اب کیسے ہوں گے۔

عدالت کی طرف سے ملزم پرویز مشرف کے وارنٹ گرفتاری سے متعلق اسلام آباد پولیس کی طرف سے جو جواب جمع کروایا گیا اس میں کہا گیا ہے کہ چونکہ پرویز مشرف ملک سے باہر ہیں اس لیے عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔

واضح رہے کہ حکومت نے سابق صدر کا نام گذشتہ ماہ ای سی ایل سے نکال دیا تھا جس کے بعد وہ علاج کی غرض سے بیرون ملک چلے گئے تھے۔

تین مقدمات میں سابق فوجی صدر کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوچکے ہیں جن میں آئین شکنی کے علاوہ غازی عبدالرشید کے قتل اور 2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلی عدلیہ کے ججز کو حبس بےجا میں رکھنے کا مقدمہ شامل ہے۔

اسی بارے میں