پاکستانی سینیٹ کے 104 اراکین کے اثاثوں کی تفصیلات جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قومی اسمبلی کے 342 ارکان کی جانب سے الیکشن کمیشن میں سنہ 2014 اور 2015 کے اثاثوں کی تفصیلات جمع کروا دی گئی ہیں جن میں سے قومی اسمبلی کے صرف تین ارکان ایسے ہیں جن کی اثاثوں کی مالیت اربوں روپے میں ہے

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے ارکان کے بعد ایوان بالا یعنی سینیٹ کے 104 اراکین کے سنہ 2014 اور 2015 کے اثاثوں کی تفصیلات بھی جاری کردی ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے اثاثوں کی مالیت 68 کروڑ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اور سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کے 33 کروڑ روپے مالیت کے بیرون ملک اثاثے ظاہر کیے گئے ہیں۔

٭اراکان پارلیمنٹ کے اثاثہ جات کا نوٹیفکیشن 15 اکتوبر کو

٭ ’پاکستان کے امیر، پاکستان کے غریب‘

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپنے بیٹے سے 11 کروڑ روپے کا قرضے حسنہ بھی لیا ہوا ہے۔

سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی کے اثاثوں کی مالیت آٹھ کروڑ روپے سے زائد ہے۔

قومی اسمبلی کے 342 ارکان کی جانب سے الیکشن کمیشن میں سنہ 2014 اور 2015 کے اثاثوں کی جو تفصیلات جمع کروائی گئی ہیں ان میں سے قومی اسمبلی کے صرف تین ارکان ایسے ہیں جن کی اثاثوں کی مالیت اربوں روپے میں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر اعظم نواز شریف کے پاکستان میں اثاثوں کی مالیت ایک ارب 90 کروڑ روپے ہے

ان تین ارکان میں وزیر اعظم نواز شریف، وفاقی وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان شامل ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف کے پاکستان میں اثاثوں کی مالیت ایک ارب 90 کروڑ روپے ہے۔ اس میں ایک ارب روپے سے زائد مالیت کی جائیداد شیخوپورہ اور لاہور میں بھی ہے جو انھیں وراثت میں ملی ہے۔

ان اثاثوں میں ان کے بڑے بیٹے حسن نواز کی جانب سے بھیجے گئے 21 کروڑ روپے بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ان اثاتوں میں وزیراعظم کی اہلیہ کے نام جائیداد کی تفصیلات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن کی مالیت 22 کروڑ روپے سے زائد ہے۔

اثاثوں کی ان تفصیلات میں میاں نواز شریف کی بیرون ملک کوئی جائیداد ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے اثاثوں کی مالیت ایک ارب، 23 کروڑ روپے کے قریب ہے۔ جن میں سے 75 کروڑ روپےمالیت کی جائیداد بنی گالہ کی زمین ہے جس پر انھوں نے گھر بنایا ہے۔ یہ زمین عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ خان نے انھیں تحفے میں دی تھی۔

اس کے علاوہ عمران خان نے اپنے اثاثوں میں لاہور کے زمان پارک میں اپنے آبائی گھر کو بھی ظاہر کیا ہے جس کی مالیت 22 کروڑ روپے ظاہر کی گئی ہے

الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے گوشواروں میں ایسے ارکان کی تعداد صرف دو ہے جن کے اثاثوں کی مالیت 50 کروڑ روپے سے زائد ہے۔ ان میں وزیر اعلی پنجاب کے صاحبزاے حمزہ شہباز اور پاکستان تحریک انصاف کے ہنما اسد عمر بھی شامل ہیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کے اثاثوں کی مالیت چار کروڑ جبکہ جمعت علمائے اسلام کے اپنے ہی دھڑے کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے اثاثوں کی مالیت 66 لاکھ روپے ہے۔

قومی اسمبلی میں آزاد اُمیدوار جمشید دستی نے اپنے اثاثوں کی مالیت صرف چند ہزار روپے بتائی ہے۔

اسی بارے میں