’صرف فوجی آپریشن سے مسائل حل نہیں ہوں گے‘

کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے منحرف رہنما مصطفٰی کمال نے اپنی نئی سیاسی جماعت پاک سرزمین پارٹی کے پہلے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے وہ موجودہ جمہوری نظام کو نہیں مانتے اور ان کی نظر میں جمہوریت وہ ہوتی ہے جو عوام کی دہلیز پر ہو۔

٭ آرمی چیف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں

٭ رضا ہارون بھی مصطفیٰ کمال کے کیمپ میں

انھوں نے کہا کہ اس وقت پورے ملک میں فوج کی جانب سے آپریشن کیے جارہے ہیں مگر صرف فوجی آپریشن سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ آپریشن کے بعد وہاں کے عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کرے ورنہ کچھ عرصے کے بعد وہاں دوبارہ منفی سرگرمیاں شروع ہو جائیں گی۔

مصطفٰی کمال نے مطالبہ کیا کہ ’ایسا نظام دیاجائے کہ عوام اپنے فیصلے خود کریں، پاکستان کا آئین نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کا پابند کرتا ہے اور موجودہ نظام میں اگر کوئی نیک نیتی سے عوام کی خدمت کرنا چاہتا بھی ہو تو نہیں کرسکتا اس لیے اختیارات کو یونین کونسل کی سطح پر منتقل کرنا ہوگا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جو حکومت پینے کا پانی نہیں دے سکتی اسے جمہوری کہلانے کا کوئی حق نہیں ہے۔

مصطفٰی کمال نے کہا کہ باہر سے آنے والے کراچی میں حزبِ اختلاف کا کردار تو ادا کرنا چاہتے ہیں مگر کراچی کے مسائل پر بات نہیں کرتے جیسے پینے کے پانی کی فراہمی یا شہر کے لیے ماس ٹرانزٹ سسٹم تیار کرنا۔

اس جلسے سے مصطفٰی کمال سے قبل انیس قائم خانی نے بھی خطاب کیا جنھوں نے اپنے خطاب میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ وہ بھارت کے بجائے پاکستان کا جھنڈا تھام لیں۔

یہ جلسہ کراچی میں بانیِ پاکستان محمد علی جناح کے مزار کے عین سامنے واقع باغِ جناح میں منعقد کیا گیا تھا۔

پاک سرزمین پارٹی کے نام کا اعلان 23 مارچ کو کیا گیا تھا جس میں پارٹی جھنڈے کے بجائے پاکستان کے جھنڈے کو بطور پارٹی جھنڈا استعمال کرنے کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔

اسی لیے آج کے جلسے منتظمین کی جانب سے صرف پاکستان کے قومی پرچم ہی بانٹے گئے۔

یاد رہے کہ کراچی کے سابق میئر اور ایم کیو ایم کے سابق رہنما مصطفیٰ کمال نے تین مارچ کو ایم کیو ایم کے منحرف رہنما انیس قائم خانی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے لندن میں 24 سال سے مقیم متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین پر سنگین نوعیت کے الزامات لگائے تھے۔

مصطفی کمال تقریباً پانچ سال تک ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی کے مئیر رہے، ایم کیو ایم نے انھیں 2011 میں سینیٹ کا ٹکٹ جاری کیا تاہم اپریل 2014 میں وہ سینیٹ سے مستعفی ہو گئے اور اس کے بعد سے وہ پارٹی میں مکمل طور پر غیر فعال ہو گئے۔

پاکستان واپسی تک وہ دبئی میں ملازمت کر رہے تھے۔

دوسری جانب انیس قائم خانی ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن رہ چکے ہیں، 2013 کے بعد سے وہ پارٹی میں غیر فعال شمار کیے جاتے ہیں جبکہ ڈاکٹر عاصم حسین کیس میں ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تھے تاہم بعد میں انھوں نے اس کیس میں ضمانت حاصل کرلی۔

اس نئی جماعت پاک سرزمین پارٹی کے قیام کے بعد سے اب تک اس میں ایم کیو ایم کے چھ ارکان سندھ اسمبلی اور پاکستان تحریک انصاف کا ایک رکن صوبائی اسمبلی شامل ہوا ہے۔

پاک سرزمین پارٹی میں ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی میں رضا ہارون، ڈاکٹر صغیر احمد، وسیم آفتاب، افتخار عالم، بلقیس مختار اور اشفاق منگی شامل ہیں جبکہ پی ٹی آئی سے رکن صوبائی اسمبلی سید حفیظ الدین نے شمولیت اختیار کی ہے۔

اس کے علاوہ ایم کیو ایم کے انیس ایڈووکیٹ، افتخار رندھاوا، سابق سینیٹر محمد علی بروھی، محمد رضا عابدی، اے پی ایم ایس او (آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن) کے سابق چیئرمین سید وحید الزاماں، سیف یار خان، عطااللہ کرد سمیت دیگر چند رہنما پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں