لیہ: زہریلی مٹھائی سے ہلاکتیں 22، قتل کا مقدمہ درج

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ہلاک شدگان میں ایک ہی خاندان کے 12 افراد بھی شامل ہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع لیہ میں زہریلی مٹھائی کھانے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 22 تک پہنچ گئی ہے جبکہ آٹھ افراد کی حالت نازک ہے۔

پولیس کے مطابق زہریلی مٹھائی بنانے کے الزام میں تین افراد کے خلاف درج مقدمے میں قتل کی دفعات بھی شامل کر لی گئی ہیں۔

اس سے پہلے مقدمہ صرف زہر ملانے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کی سزا صرف دس سال ہے۔

لیہ کے ضلعی پولیس افسر کیپٹن ریٹائرڈ محمد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی طور پر اس معاملے میں گرفتار کیے گئے تین ملزمان میں مٹھائی کی دوکان کے مالکان طارق محمود، خالد محمود اور اُن کا 13 سالہ ملازم حامد شامل ہے۔

زہریلی مٹھائی سے ہلاکتوں کا واقعہ گذشتہ ہفتے لیہ کی تحصیل کروڑ لعل عیسن میں پیش آیا تھا جب ایک مقامی دیہاتی عمر حیات کی جانب سے اپنے پوتے کی پیدائش کی خوشی میں تیار کروائی گئی مٹھائی کھانے سے بڑی تعداد میں لوگ بیمار ہوگئے تھے۔

پولیس کے مطابق مٹھائی کھانے کے فوراً بعد 12 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں نومولود کا باپ بھی شامل تھا جبکہ زہریلے لڈو کھانے سے 100 سے زیادہ افراد متاثر ہوئے تھے۔

حکام کے مطابق اس وقت 79 افراد مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جن میں سے آٹھ کی حالت تشویش ناک بیان کی جاتی ہے۔

ڈی سی او لیہ کے مطابق مٹھائی کی دوکان سے کیڑے مار ادویات بھی برآمد کی گئی ہیں جن میں کیڑے مار زہر چائنہ پوڑی بھی شامل ہے۔

مقامی سطح پر اس کے استعمال پر پابندی عائد ہے اور دوا پاکستان میں سمگل ہوکر آتی ہے۔

ضلعی پولیس افسر کے مطابق دوکان سے ملنے والے نمونوں کو تجزیے کے لیے فارینزک لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اسی بارے میں