حزب اختلاف کی جماعتوں کا مشترکہ اجلاس طلب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نواز شریف پاناما لیکس کے سامنے آنے کے بعد سے شدید سیاسی دباؤ کا شکار ہیں

پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی جماعتوں کا مشترکہ اجلاس دو مئی کو طلب کر لیاگیا ہے جس میں پاناما لیکس کی عدالتی تحقیقاتی کے لیے وزیر اعظم کی طرف سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو لکھے جانے والے خط اور ضابطہ کار پر غور کیا جائے گا۔

یہ اجلاس پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن کی رہائش گاہ پر ہوگا جس میں پارلیمنٹ میں موجود حزب مخالف کی جماعتوں کے نمائندے شریک ہوں گے۔ اس اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی شمولیت کا امکان بہت کم ہے۔

اس بات کا اعلان قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کے درمیان پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی ملاقات کے دوران کیا گیا۔

بعدازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ حزب مخالف کی جماعتیں پاناما لیکس سے متعلق حکومت کی طرف سے بنائے گئے ضابطہ کار کو مسترد کرچکی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پاناما لیکس میں سب سے پہلے وزیراعظم کے خاندان کے بارے میں تحقیقات کی جائیں جس کے بعد اس فہرست میں شامل دیگر افراد کے خلاف تحقیقات کی جائیں۔

سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں کک بیکس اور سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرکے قرضے معاف کروانے والوں کے بارے میں جو لکھا گیا ہے اس کی تحقیقات کے لیے کئی سال لگ جائیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کو بتایا کہ اُن کی جماعت کی طرف سے سندھ میں جسلہ کرنے کا مقصد پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور رہنماؤں کی مبینہ بدعنوانی کو بےنقاب کرنا نہیں بلکہ پاکستان تحریک انصاف کا فوکس صرف پاناما لیکس ہی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے یہ خبریں آرہی تھیں کہ شاہ محمود قریشی نے اس معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے بات کی ہے تاہم جب میڈیا کے نمائندوں نے شاہ محمود قریشی سے استفسار کیا کہ کیا اُن کی براہ راست بلاول بھٹو سے بات ہوئی ہے تو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ اُن کی براہ راست بات تو نہیں البتہ اپنے قریبی دوست کے ذریعے بلاول بھٹو زرداری کو یہ پیغام پہنچایا گیا ہے۔

حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی عمران خان کی طرف سے وزیر اعظم کی رہائش گاہ جاتی عمرہ کے سامنے احتجاج کرنے کے حق میں نہیں ہے اور اس جماعت کی قیادت کی طرف سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ایسی صورت میں اُن کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کا ساتھ نہیں دے گی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاناما لیکس پر حزب مخالف کی جماعتیں حکومت کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل تو اختیار کرلیں گی لیکن پاکستان تحریک انصاف کی قیادت دیگر جمماعتوں اور بلخصوص اُن جماعتوں کی اجاراداری کو تسلیم نہیں کرے گی جن کی قیادت پر وہ بدعنوانی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

ان جماعتوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ، متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان مسلم لیگ قاف بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں