’سورن سنگھ کے قتل کی وجہ سیاسی رنجش تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مالاکنڈ کے ڈی آئی جی آزاد خان کے مطابق سورن سنگھ کے قتل کے بارے میں کالعدم تحریکِ طالبان کا دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی پولیس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی سردار سورن سنگھ کے قتل کی وجہ سیاسی رنجش تھی۔

مالاکنڈ ڈویژن کے ڈی آئی جی آزاد خان نے پیر کو ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ اس معاملے میں چھ ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے اور تحریکِ طالبان کی جانب سے اس قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں۔

ڈی آئی جی کے مطابق اس قتل کا مقدمہ سورن سنگھ کے بیٹے کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے اور حراست میں لیے گئے چھ ملزمان نے اعترافِ جرم بھی کر لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سورن سنگھ کو اس علاقے کے مقامی اقلیتی سیاستدان بلدیو کمار کی ایما پر ہلاک کیا گیا۔

آزاد خان کے مطابق بلدیو کمار خود الیکشن لڑنا چاہتے تھے اور ٹکٹ نہ ملنے پر ان کا سورن سنگھ سے تنازع تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سردار سورن سنگھ کی آخری رسومات میں سکھ برادری کے علاوہ بڑی تعداد میں مقامی لوگوں نے بھی شرکت کی تھی

ان کا کہنا تھا کہ سورن سنگھ کے قتل کے بارے میں کالعدم تحریکِ طالبان کا دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں۔

تحریک طالبان پاکستان نے پولیس کے دعوے کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے بڑھتے حملوں سے بوکھلا کر حکومت نے نئی پالیسی اختیار کی ہے۔

ایک تحریری بیان میں تحریک طالبان پاکستان نے کہا کہ اپنے اسی مفاد کو حاصل کرنے کے لیے حکومت کسی سے بھی اقرار کروا کر اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔

خیال رہے کہ سورن سنگھ پر حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان عمر خراسانی نے اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی تھی۔

سورن سنگھ کو گذشتہ جمعے کی شام خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں ان کی آبائی علاقے پیر بابا میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

سردار سورن سنگھ کی آخری رسومات میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، اور سکھ برادری کے علاوہ بڑی تعداد میں مقامی لوگوں نے بھی شرکت کی تھی۔

سورن سنگھ نے سال 2011 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی جبکہ اس سے پہلے وہ جماعت اسلامی سے وابستہ تھے۔

اسی بارے میں