’احمدیوں کے خلاف جاری نفرت و تشدد میں اضافہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گذشتہ برس میں 2 احمدیوں کو محض عقیدہ کی بنیاد پر قتل کیا گیا

پاکستان میں جماعت احمدیہ کی ایک رپورٹ کے مطابق احمدیوں کے خلاف امتیازی سلوک کا سلسلہ گذشتہ سال بھی جاری رہا اگرچہ عقیدے بنیاد پر احمدیوں کو قتل کرنے کے واقعات کم ہوئے۔

جماعت احمدیہ نے اپنی سالانہ پرسیکیوشن رپورٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ’اس سال احمدیوں کے خلاف جاری نفرت و تشدد کی لہر میں نمایاں اضافہ ہوا۔ جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے احمدیوں کے تحفظ میں مسلسل ناکام رہے۔‘

جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین نے رپورٹ کے اجرا پر کہا کہ ’سال2015 کے دوران متحدہ علماء بورڈ کی سفارش پر حکومت پنجاب نے جماعت احمدیہ کے کثیر لٹریچر کو ممنوع قرار دے دیا۔ جبکہ ایسی کوئی نشاندہی حکومت نہیں کر سکی کہ اس لٹریچر میں کونسا مواد شرانگیز ہے۔‘

سلیم الدین نے کہا کہ ’اس وقت عملی طور پر یہ صورتحال ہے کہ احمدیوں کے لیے بھی ان کے اپنے لٹریچر تک رسائی ناممکن بنا دی گئی ہے جو کہ ملک کے آئین کے آرٹیکل 20کی واضح خلاف ورزی ہے۔‘

رپورٹ میں احمدیوں سے امتیازی سلوک کی مثال دیتے ہوئے 2015کے بلدیاتی انتخابات ہے کی بات کی گئی جس میں ایک بار پھر مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک کرتے ہوئے صرف احمدیوں کے لیے الگ ووٹر لسٹ بنائی گئی اور احمدیوں کے لیے عملی طور پر انتخابات میں حصہ لینے کے راستے مسدود کر دیے گئے۔

Image caption پاکستان میں احمدی برادری کی عبادت گاہوں پر حملے بھی کیے گئے

پاکستانی پریس میں پائی جانے والے احمدی مخالف تعصب کے حوالے سے ترجمان جماعت احمدیہ نے لکھا کہ جب بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے جماعت احمدیہ کے موقف کو اشتہار کی صورت میں عوام کے سامنے لانے کی کوشش کی گئی تو کسی بھی ملک گیر اخبار نے اس اشتہار کو قیمتاً بھی شائع کرنے سے انکار کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ 2015 میں 2 احمدیوں کو محض عقیدہ کی بنیاد پر قتل کیا گیا۔

ترجمان جماعت احمدیہ نے تعلیمی میدان میں احمدیوں کے ساتھ کی جانے والے نا انصافیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ70کی دہائی میں حکومت وقت نے تعلیمی ادارے بھی قومیائے تھے جن میں جماعت احمدیہ کے تعلیمی ادارے بھی شامل تھے۔

’ڈی نیشنلائزیشن کی پالیسی کے نفاذکے بعد جماعت نے سرکاری قوائد و ضوابط کے مطابق خطیر رقم سرکاری خزانے میں اپنے تعلیمی اداروں کی واپسی کے لیے جمع کرائی۔مگرحکومت نے آج تک جماعت احمدیہ کے تعلیمی ادارے واپس نہیں کیے جبکہ اسی پالیسی کے تحت متعدد تعلیمی ادارے ان کے اصل مالکان کو واپس ہو چکے ہیں ۔عقیدے کے اختلاف کو بنیاد بنا کر صرف احمدیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کب تک جاری رہے گا؟‘

اسی بارے میں