ضابطہ کار تبدیل نہیں ہو گا، وفاقی کابینہ کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وفاقی کابینہ نے پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھیجے گئے ضابطہ کار کی منظوری دے دی ہے اور وفاقی کابینہ کا کہنا ہے کہ یہ ضابطہ کار حتمی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

بدھ کو اسلام آباد میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کی سربراہی میں سات ماہ کے بعد ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پاناما لیکس کے لیے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے اس لیے اس ضابطہ کار میں تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

٭’الزام ثابت ہوا تو وقت ضائع کیے بغیر گھر چلا جاؤں گا‘

٭ عدالتی کمیشن کا فیصلہ چیف جسٹس واپس آ کر کریں گے‘

٭ ’سب کا احتساب ہو لیکن آغاز وزیر اعظم سے ہو‘

یاد رہے کہ حزب مخالف کی جماعتوں نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے حکومتی ضابطہ کار کو مسترد کردیا ہے اور اس بارے میں دو مئی کو حزب مخالف کی جماعتوں کا اجلاس طلب کر رکھا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے اجلاس سے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بعض سیاست دان محض اقتدار کی ہوس میں ملک میں ترقیاتی عمل کو روکنا چاہتے ہیں جس میں وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔

اُنھوں نے وفاقی وزرا سے کہا کہ وہ اپنی وزارتوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور عوامی خدمت کے لیے اپنی توانائیاں صرف کریں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سیاسی مخالفین کو ملک میں توانائی کے منصوبے مکمل ہونے کے بعد ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں اپنی شکست نظر آرہی ہے اس لیے وہ ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرر ہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ سنہ1999 سے لے کر 2013 تک آنے والی حکومتوں نے توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری پر کوئی توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے ملک میں بجلی کا بحران پیدا ہوا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے چین کی طرف سے توانائی کے شعبے میں 32 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے علاوہ پاکستان میں دو موٹر ویز کے لیے ساڑھے چار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی بھی توثیق کی۔ اس رقم سے سکھر ملتان اور حویلیاں تھاکوٹ موٹر ویز مکمل ہوں گی۔

دوسری جانب پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے پاناما لیکس کی عدالتی تحقیقات سے پہلے اس بارے میں قانون سازی کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن نے بدھ کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس معاملے میں قانون سازی میں پہل کرے تو حزب مخالف کی جماعتیں اُن کا ساتھ دے گی۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس میں سب سے پہلے وزیر اعظم کے خاندان کی تحقیقات کی جائیں اس کے بعد دیگر افراد کے خلاف بھی تحقیقاتی عمل شروع کی جائے۔

حزب مخالف کی جماعت سے ملاقات کے بعد سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے چار تجاویز پیش کیں جن میں کمیشن کو بیرون ملک جاکر پاناما لیکس کی تحققیات کرنے کا اختیار دینے کے علاوہ دو ماہ کی مدت میں اس کی تحقیقات مکمل کرنے کا ٹاسک دینا بھی شامل ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ اس کمیشن کو تحقیقاتی رپورٹ شائع کرنے کا اختیار بھی دیا جائے۔

اسی بارے میں