پشاور میں چوہوں کےانسانوں پر حملے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس مہینے میں 374 افراد کو چوہوں نے کاٹا ہے

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں چوہوں نے انسانوں پر حملے شروع کر دیے ہیں اور سنیچر کے روز لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں 22 افراد کو لایاگیا ہے جنھیں چوہوں نے کاٹا ہے جبکہ اس مہینے اب تک 374 افراد چوہوں کے کاٹنے سے زخمی ہو چکے ہیں۔

پشاور میں چوہوں کے کاٹنے کے واقعات میں خطر ناک حد تک اضافہ ہوا ہے جس سے شہری انتہائی خوفزدہ ہیں۔ یہ چوہے عام چوہوں کی نسبت کافی بڑے بتائے جاتے ہیں۔

لیڈّی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں روزانہ چوہوں کے کاٹنے سے زخمی ہونے والے متعدد افراد کا علاج کیا جا رہا ہے۔لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان سید جمیل شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مہینے چوہوں کا شکار ہونے والے افراد میں 174 بچے اور 72 خواتین شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر بچے ان چوہوں سے متاثر ہوئے ہیں اور انھیں گردن سے اوپر سر منہ یا ناک پر کاٹتے ہیں۔ جمیل شاہ کے مطابق اگر چوہا گردن سے نیچے کاٹے تو ایک انجیکشن دیا جاتا ہے اور اگر گردن سے اوپر کاٹے تو پھر چار انجیکشن کچھ دنوں کے وقفے سے دیے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر افراد اندرون پشاور شہر کے ان علاقوں سے آتے ہیں جہاں فوڈ سٹریٹس ہیں یا غلے کی دکانیں ہیں اور اس کے علاوہ ان علاقوں سے بڑی تعداد میں مریض آتے ہیں جو علاقے ان نہروں کے قریب واقع ہیں جہاں سیلاب آتے ہیں۔

ایک شہری راشد محمود جن کے چہرے پر چوہے نے کاٹا ہے ، بی بی سی کو بتایا کہ گلیوں میں رات کے وقت اور صبح کے وقت ہر طرف چوہے نظر آتے ہیں۔

چوہوں کے شکار بیشتر افراد وہ ہیں جو گھروں میں زمین پر سوتے ہیں لیکن وزیر کالونی میں لوگوں نے بتایا کہ یہ چوہے ایسے ہیں کہ چارپائی کے اوپر بھی چڑھ جاتے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ چوہے عام چوہوں سے بہت مختلف ہیں انھیں اگر مارنے کے لیے کوئی جائے تو یہ انسان پر جھپٹتے ہیں جس سے لوگ خوفزدہ ہیں۔

ضلعی حکومت ان چوہوں کو ختم کرنے کے لیے پہلے تو لوگوں سے کہا کہ وہ چوہے ماریں اور فی چوہا انھیں تیس روپے دیے جائیں گے لیکن یہ مہم ختم کر دی گئی ۔

ضلعی حکومت نے اب 20 افراد کو تعینات کیا ہے جو رات کے وقت متاثرہ علاقوں میں جا کر ان چوہوں کا شکار کرتے ہیں لیکن ان کوششوں کے باوجود چوہے ختم نہیں کیے جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان چوہوں کی تعداد اسی طرح بڑھتی رہی تو اس سے خطرناک بیماریاں جنم لے سکتی ہیں جن میں طاعون کا مرض بھی ہے۔

اسی بارے میں