یومِ مئی کس جناور کا نام ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اتوار کو پاکستان میں ویسے بھی تمام سرکاری اور بیشتر نجی اداروں اور کاروبار کی ہفتہ وار چھٹی ہوتی ہے۔ ہفتہ وار چھٹی کو بین الاقوامی یومِ مزدور کے موقع پر عام تعطیل قرار دینا بتاتا ہے کہ حکومت یومِ مئی کو کس قدر اہمیت دیتی ہے۔

وہ بھی ایک زمانہ تھا جب فیض احمد فیض آل پاکستان فیڈریشن آف لیبر کے صدر تھے۔ پاکستان کے پہلے فوجی ڈکٹیٹر ایوب خان کا اقتدار لیبر یونینوں کی مسلسل ہڑتال کے سبب الٹا گیا اور جب ذوالفقار علی بھٹو نے مزدوروں کو ایک ہاتھ سے اختیار تھمایا اور دوسرے ہاتھ کا گھونسہ بنا کے جڑ دیا تو سن ستتر میں بھٹو حکومت کا پہلے ملک گیر پہیہ جام ہڑتالوں نے تختہ کیا اور پھر ضیا الحق نے دھڑن تختہ کر دیا۔

اور اسی ضیا الحق نے سوائے بینکنگ سیکٹر ہر شعبے میں یونین سازی پر پابندی لگا کر مزدور تحریک کا کریا کرم کر دیا۔ باقی کسر سوویت یونین کے زوال کے سبب بائیں بازو کی عالمی مزدور ایکتا کی کمزوری نے پوری کردی اور گلوبلائزیشن کے سفاک جھکڑ نے عالمی مزدور ایکتا کے لیے مرے پے سوویں درے کا کام کیا۔

یہی پاکستان تھا جہاں ٹریڈ یونینیں اجتماعی سوداکار ایجنٹ تھیں، آجر کے منافع میں سے مزدور کو بونس دلاتی تھیں، سوشل سیکورٹی، صحت و تعلیم کی سہولتیں اور پنشن و گریجویٹی جیسے بنیادی حقوق تسلیم کروا لیتی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مگر آج کے پاکستان میں بس ایک لیبر قانون نافذ ہے۔ یعنی کام کرو گے تو دھاڑی ملے گی بیمار ہوگے تو دس دیگر صحت مند تمہاری جگہ لینے کے لیے تیار ہیں۔ حادثہ ہوگیا تو علاج خود کرانا۔ اب آٹھ ہزار روپے تنخواہ لے کر تیرہ ہزار روپے کے واؤچر پر انگوٹھا لگاؤ ورنہ دفع ہو جاؤ۔

کیا کہا ؟ مستقل ملازمت ؟ اپائٹمنٹ لیٹر ؟ پراویڈنٹ فنڈ ؟ سوشل سیکورٹی، گریجویٹی ؟ بونس ؟ پاگل ہوگئے ہو کیا ؟ سرکاری و غیر سرکاری سیکٹر کا کوئی ایک سیٹھ یا ادارہ بھی تمہارے نخرے برداشت کرنے کو تیار ہو تو اس چریا سے ہمیں بھی ملوانا۔

آج متعدد اخبارات نے یکم مئی کے یک صفحی خصوصی ضمیمے شائع کئے۔ متعدد چینلز کے نیوز بلیٹنز میں یکم مئی کے علامتی پیکیج بھی نشر ہوئے۔ لیکن انہی اخبارات و چینلز میں اسی فیصد ملازم شارٹ ٹرم کنٹریکٹ یا ڈیلی ویجز پر کام کر رہے ہیں۔ کیونکہ مستقل ملازمت دینے کا مطلب یہ ہے کہ تنخواہ و مراعات بھی ویج بورڈ ایوارڈ کے تحت دینا ہوں گی۔

اس وقت کسی پاکستانی میڈیائی ادارے میں مہینہ ختم ہوتے ہی تنخواہ مل جانا معجزہ سمجھا جاتا ہے۔ تین، چار، پانچ، چھ ماہ تنخواہ نہ ملنا کوئی غیر معمولی مسئلہ نہیں۔ کچھ کارکنان تو ان حالات میں خود کشی بھی کر چکے ہیں مگر مجال ہے کہ یہ خبر کسی دوسرے چینل پر نشر بھی ہو سکے۔

یقین نہیں آتا کہ یہی وہ صحافت ہے جس نے کے جی مصطفی، ابراہیم جلیس، نثار عثمانی، منہاج برنا، احمد علی خان ت عزیز صدیقی، آئی اے رحمان، حسین نقی، احفاظ الرحمان جیسے بڑے بڑے ٹریڈ یونینسٹ پیدا کئے اور ایسے ایسے پاگل بھی جنہوں نے قید اور کوڑوں کا سامنا کرلیا مگر بیعت نہیں کی۔ اور اس سنہری جدوجہد سے رقم مسندوں پر آج وہ میڈیائی رہنما قابض ہیں جن کی نگاہ ناک سے آگے دیکھنے سے قاصر ہے۔ وہ حسین کے بھی علمبردار ہیں اور یزید سے بھی داد وصول رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ہاں کبھی چند سیاسی جماعتیں بھی مزدور اور کسان کے حقوق کا نعرہ لگاتی تھیں۔ مگر آج کی قومی پولٹیکل گیم میں سے وہ تریسٹھ فیصد آبادی باہر ہے کہ جس کی روزانہ آمدنی دوسو روپے (دو ڈالر) سے کم ہے۔

اوکاڑہ ملٹری فارمز کے ڈیڑھ پونے دو لاکھ کسان گذشتہ پندرہ برس سے زمینی ملکیت کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ چند چھوٹی سیاسی جماعتوں یا تنظیموں کے علاوہ کوئی نام نہاد ملک گیر قومی جماعت ان کسانوں کے ساتھ کندھا ملانا تو درکنار ان کو اپنے پلیٹ فارم پر مدعو کرنے کو بھی تیار نہیں۔

لیبر حقوق کی جنگ اب غیرملکی فنڈنگ کے حصول اور کچھ ماڈل پروجیکٹس اور ردِعملی پریس ریلیزوں کے گرد گھوم رہی ہے۔

پاکستان کے آدھے مزدور تو یہ بھی نہیں جانتے کہ آج ان کا عالمی دن ہے۔

مارکس نے کہا تھا محنت کشوں کے پاس کھونے کے لیے سوائے بیڑیوں کے کچھ نہیں۔ پر آج کے مزدور کے پاؤں میں تو بیڑی تک نہیں کہ اسے ہی توڑ کے بیچ دے۔

اسی بارے میں