سوات پھر سے قدرتی آفات کی زد میں

Image caption وادی کالام جانے والی اہم شاہراہ پہاڑی تودوں کی زد میں آنے سے تقریباً دو ہفتے تک مسلسل بند رہی

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی وادی سوات میں گذشتہ چند سالوں سے یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب بھی گرمیوں کے موسم کا آغاز ہوتا ہے اس سے پہلے علاقے میں کوئی بڑی قدرتی آفت آچکی ہوتی ہے جس سے ہوٹل مالکان کا کاروبار بری طرح متاثر ہوجاتا ہے اور دور دراز کے علاقوں سے آنے والے سیاح بھی مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں۔

اس سال بھی یہی کچھ ہوا، چند ہفتے قبل آنے والی طوفانی بارشوں کی وجہ سے سے سب زیادہ نقصان خیبر پختونخوا کے ملاکنڈ ڈویژن میں ہوا جہاں نہ صرف درجنوں انسانی جانیں ضائع ہوئیں بلکہ بارشوں اور پہاڑی تودے گرنے کے واقعات میں شاہراہوں اور مکانات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ۔

ضلع سوات میں بھی حالیہ بارشوں سے سیاحوں کی جنت کہلانے والی وادی کالام جانے والی اہم شاہراہ پہاڑی تودوں کی زد میں آنے سے تقریباً دو ہفتے تک مسلسل بند رہی۔ اگرچہ شاہراہ عارضی طورپر کھول دی گئی ہے لیکن تاحال اس پر صرف چھوٹی گاڑیاں جاسکتی ہیں جبکہ بڑی گاڑیوں کےلیے یہ شاہراہ بدستور بند ہے۔

کالام کے ایک سینیئر صحافی رحمت دین صدیق کا کہنا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کالام سڑک جن چار مقامات پر بند ہوگئی تھی وہاں سے اب گاڑیوں کا گزرنا ایک مشکل مرحلہ سمجھا جاتا ہے اور جوسیاح ایک مرتبہ اس سڑک سے جاتے ہیں وہ دوبارہ یہاں کا رخ نہیں کرتے۔

انھوں نے کہا کہ وادی بحرین سے کالام تک 35 کلومیٹر پر مشتمل یہ سڑک گزشتہ چھ سالوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور مختلف حکومتوں کی طرف سے وعدے بھی کئے گئے لیکن یہ شاہراہ مکمل طورپر بحال نہیں کی جاسکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سڑک کی خرابی کے باعث اب بیشتر سیاح بالائی سوات کا رخ نہیں کررہے جس سے ہوٹل مالکان کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔

وادی سوات میں عام طورپر اپریل کے مہینے میں سیاحوں کی آمد شروع ہوتی ہے اور اگست کے آخر تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ سوات میں اکثریتی آبادی کا روزگار سیاحت سے وابستہ ہے اور یہ صنعت وہاں کے عوام کےلیے ریڑ کی ہڈی کی حثیت رکھتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ہوٹل مالکان نے اپنی مدد اپ کے تحت بازار میں سڑک بنانے کےلیے چندہ اکھٹا کیا ہ

سوات میں ایک مقامی ہوٹل کے مالک افضل خان کا کہنا ہے کہ وادی میں بدقسمتی سے سیزن کا آغاز ہی سڑکوں کی بندش سے ہوا ہے اور اس سال اگر ہوٹل مالکان اخراجات بھی پورے کرلیں تو غنیمت ہوگی، کمائی تو دور کی بات۔

’گذشتہ چند سالوں میں ہماری قسمت خراب ہی رہی ہے کیونکہ پہلے طالبان پھر دو سال تک مسلسل سیلاب آتے رہے اور اب بارشیں اور یہ مصبتیں اور قدرتی آفات۔‘

انھوں نے کہا کہ 2010 میں آنے والے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے کالام بازار کا ایک حصہ مکمل طورپر پانی میں بہہ گیا تھا اور وہ حصہ ابھی تک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ ان کے مطابق حکومتی اور عوامی نمائندوں سے مایوسی کے بعد اب ہوٹل مالکان نے اپنی مدد اپ کے تحت بازار میں سڑک بنانے کےلیے چندہ اکھٹا کیا ہے اور سڑک پر کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔

اافضل خان کا نے مزید کہنا تھا کہ کالام میں گذشتہ چھ سالوں سے بجلی کا کوئی نام و نشان تک نہیں جبکہ سیلاب کی وجہ سے تباہ ہونے والے ٹیلی فون کا نظام بھی بدستور درھم برھم ہے۔

وادئ سوات گذشتہ تقریباً ایک دہائی سے مسلسل شدت پسندی اور قدرتی آفات کی زد میں رہی ہے۔ علاقے میں چار سال تک شدت پسندی اور پھر دو سال تک تباہ کن سیلاب اور اب زلزلوں اور طوفانی بارشوں کی وجہ سے وادی کے بنیادی ڈھانچے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ تاہم ان کی بحالی کےلیے ابھی تک سنجیدہ کوششیں دیکھنے میں نہیں آرہی ہیں۔

اسی بارے میں