اسامہ کے پڑوسیوں کی زندگیاں بدل گئیں

Image caption اسامہ بن لادن جس مکان میں رہتے تھے اسے بعد میں منہدم کر دیا گیا تھا

دو مئی سنہ 2011 کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں القا‏عدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو امریکہ کے خصوصی دستے نیوی سیل نے ایک ڈرامائی حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔

اس کے پانچ برس مکمل ہونے پر بی بی سی کے نمائندے الیاس خان نے اس واقعے کے مختلف پہلوؤں اور بعض ایسے سوالات کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے جن کے جوابات ابھی تک نہیں مل سکے۔

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد جب میں نے پہلی بار اس کمپاؤنڈ کو دیکھا تھا تو اس کے آس پاس کا علاقہ کھلا تھا لیکن اب صورت حال تیزی سے بدل رہی ہے اور آس پاس کا علاقہ گنجان ہوتا جا رہا ہے۔

اردگرد بہت سے نئے مکان تعمیر ہو چکے ہیں جن کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ تعمیرات بغیر کسی منصوبے کی گئی ہیں۔ لیکن اسامہ بن لادن جس جگہ میں رہتے تھے وہ اب بھی یونہی پڑی ہے۔ ان کے مکان کو ہلاکت کے چند ماہ بعد منہدم کر دیا گیا تھا۔

اس مکان کے ٹوٹے ہوئے کنکریٹ کے ٹکڑے اب بھی آس پاس بکھرے پڑے ہیں۔ اس جگہ اب بھی ایک پائپ سے پانی نکلتا ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے زمین کے اندر پانی کا کوئي چشمہ ہو۔ یہ پائپ ایک زیر زمین کنوئیں سے منسلک ہے جو کبھی اسامہ بن لادن کے اہل خانہ کو پینے کا پانی مہیا کرنے کا کام آتا تھا۔

محلے کے بہت سے لوگ اس سے نکلنے والا پانی استعمال کرتے ہیں۔

یہاں جو بات تبدیل نہیں ہوئی وہ ہے رات میں اسامہ بن لادن پر حملے سے وابستہ یادیں، جنھوں نےایبٹ آباد کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اس کے بعد کے واقعات جس پر اب بھی بہت سے لوگ بات کرنے سے کتراتے ہیں۔

اسامہ کے مکان میں تعمیرات کا کام کرنے والے ایک شخص نے اس وعدے پر مجھ سے ملنے پر رضامندی اختیار کی کہ ان کی شناخت ظاہر نہیں کی جائے گی۔ لیکن جب میں ان گھر پہنچا تو دیکھا کہ دروازے پر تالا لگا ہوا ہے۔ ایک پڑوسی نے بتایا کہ وہ وہ گذشتہ رات ہی اپنے بال بچوں کو لے کر کہیں چلے گئے ہیں۔

84سالہ زین بابا کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ اسامہ کے سب سے قریبی پڑوسی تھے۔ ان کا چھوٹا سا مکان گلی پار کر کے سامنے ہی ہے۔ ہر صبح وہ پاس کے ایک درخت کے نیچے بیٹھتے ہیں جہاں آس پاس کے بڑے بوڑھے جمع ہوتے ہیں۔

حملے کی رات تک زین بابا اور ان کے بیٹے شمریز خان ارشد خان کے مکان پر رات کے وقت چوکیداری کیا کرتے تھے۔ امریکیوں کے لیے ارشد خان وہی شخص تھے جو ابو احمد الکویتی کے نام سے اسامہ بن لادن کے لیے کوریئر لانے اور لے جانے کا کام کیا کرتے تھے۔ انھی کی فون کالز سے اسامہ بن لادن کے خفیہ ٹھکانے کا سراغ ملا تھا۔

زین بابا اور ان کے بیٹے کو اس کمپاؤنڈ کے بعض حصوں تک رسائی حاصل تھی۔ حملے کے بعد ان دونوں کو حراست میں لے لیا گيا اور پھر دو ماہ بعد رہا کر دیا گيا تھا۔

وہ بتاتے ہیں: ’وہ ہمارے ہاتھ باندھ دیتے اور آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے تھے۔ وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ کیا ہم نے کبھی اسامہ کو مکان میں دیکھا تھا۔ ہم ان کو یہی بتاتے رہے کہ ہم نے دو بھائیوں اور بعض بچوں کے علاوہ وہاں کبھی کسی کو نہیں دیکھا۔‘

پانچ برس مکمل ہونے کے بعد بھی زین بابا سکیورٹی کے ریڈار پر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب بھی کوئی بیرونی صحافی وہاں آتا ہے تو وہ ان سے بات کرنا چاہتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں: ’سادہ وردی میں سرکاری گاڑیوں میں سوار لوگ آتے ہیں اور بیرونی افراد کے دوروں کے متعلق پوچھتے رہتے ہیں اور ایسے لوگوں سے بات نہ کرنے کی تنبیہہ بھی کرتے رہتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ حال لی میں کیسے پڑوس کے ایک بزرگ شخص نے ایک فرانسیسی صحافی سے بات چیت کی تھی جس کے بعد سکیورٹی والے انھیں اٹھا کر لے گئے۔ بعد میں اسی رات کو ان عمر رسیدہ شخص کا انتقال ہوگيا تھا۔ دوسرے دن سادہ وردی میں کچھ اور لوگ آئے اور زین بابا کے بیٹے شمریز خان کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے لگے۔

وہ کہتے ہیں: ’میں لوگوں کے سوالوں سے تھک چکا ہوں۔ میں اب اور انٹرویو نہیں دینا چاہتا۔ میڈیا والے اگر کسی اور سے بھی بات کرتے ہیں تو بھی سکیورٹی والے مجھی سے آ کر سوالات کرتے ہیں۔‘

اس عمر میں زین بابا کو کوئی بہت کھونے کا خطرہ تو نہیں ہے لیکن اس سے پتہ چلتا ہے کہ سکیورٹی اس واقعے سے متعلق کتنے وسوسوں میں مبتلا ہے۔

Image caption زین بابا ہی اسامہ کے کمپاؤنڈ کی پہرےداری کیا کرتے تھے جو آج تک پریشان ہیں

رفیق ایک اور شخص ہیں جو پوری طرح سے تبدیل ہو چکے ہیں۔ پہلے وہ پڑوسیوں سے گھلا ملا کرتے تھے لیکن اب خاموش رہتے ہیں۔

ان کے ایک پڑوسی کا کہنا ہے: ’اب وہ اپنا سر نیچا کر کے چلتے ہیں اور اگر کوئی سلام دعا کرے تو بس ہاتھ اٹھا کر جواب دے دیتے ہیں۔‘

جب اسامہ کا کمپاؤنڈ زیر تعمیر تھا تو تعمیرات کے ایک چھوٹے ٹھیکیدار کے طور پر رفیق کا کاروبار بہت چل نکلا تھا۔ ارشد خان نے انھی سے مزدور حاصل کرنے اور دیگر تعمیراتی ساز و سامان حاصل کرنے میں مدد لی تھی۔

لیکن امریکی حملے کے بعد ان کی زندگی بدل کر رہ گئی ہے۔ سکیورٹی ایجنسیوں نے ان کے گھر بھی چھاپہ مارا اور انھیں ساتھ لے کر گئے۔ پڑوسیوں نے بتایا کہ ان کی گلی کو ہر طرف سے گھیر لیا گیا تھا اور پھر وہ کندھے پر جھولا ڈال کر سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ باہر نکلے تھے۔ وہ کئی ماہ تک غائب رہے۔

ایک سکیورٹی افسر نے بتایا کہ رفیق کو اس لیے گرفتار کیا گیا تھا کیونکہ بعد میں پتہ چلا کہ کئی چيزيں ان کے نام سے رجسٹرڈ کی گئی تھیں۔

اس دوران رفیق کئی بار مختلف مدت کے لیے غائب ہو چکے ہیں۔ بی بی سی نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش بہت کی لیکن کامیابی نہیں مل سکی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

ایک پڑوسی نے بتایا کہ ’جب وہ کندھے پر جھولا رکھ کر گھر سے باہر نکلتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے وہ اب کافی دنوں تک واپس نہیں آئیں گے۔‘

ضرورت سے زیادہ باخبر پولیس والا

پولیس اہل کار یاسر خان کو اس بارے میں ضرورت سے کچھ زیادہ ہی معلومات تھیں۔ کیا اس کمپاؤنڈ میں رہنے والے افراد کے ساتھ ان کے براہ راست تعلقات تھے؟ شاید یہ بات کسی کو بھی کبھی معلوم نہ ہو سکے۔

یاسر خان کو 2011 میں اس علاقے میں انٹیلیجنس محکمے میں تعینات کیا گيا تھا اور وہ کمپاؤنڈ کے آس پاس ہی رہتے تھے۔ ایک سینیئر سکیورٹی افسر کا کہنا تھا کہ تمام دیگر جاسوسوں کی طرح وہ بھی اکثر وہاں سادہ کپڑوں میں ٹہلتے بھی دیکھے جا سکتے تھے۔

ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ دو مئی کو جب امریکی فورسز نے حملہ کیا تو وہ اپنے گھر پر تھے اور ہیلی کاپٹر کو تباہ کرنے سے جب دھماکہ ہوا تو اسی کی آواز سے پولیس چوکس ہوئی تھی۔ دیگر پولیس اہلکاروں کے ساتھ کارروائی کے لیے یاسر خان کو بھی طلب کیا گيا تھا۔

اس کے دوسرے روز ہی سادہ وردی والے یاسر خان کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ اسامہ کے مکان پر چھاپے کے بعد سکیورٹی ایجنسیوں نے متعدد افراد کو حراست میں لیا تھا جس میں سے بیشتر واپس آ گئے لیکن یاسر خان کا آج تک کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔

ایک سکیورٹی اہلکار نے یہ ضرور بتایا کہ گذشتہ برس تک تو زندہ تھے لیکن وہ کہاں قید ہیں یا کس ایجنسی کے پاس ہیں اس بارے میں کچھ نہیں معلوم۔

ان کے اہل خانہ نے تو میڈیا سے کبھی بات نہیں کی لیکن ان دکھ درد ان کے پڑوسیوں سے مخفی نہیں ہیں۔ ان کی ماں تو ابھی زندہ ہیں لیکن بیوی اور بچوں کو ان کے بارے میں کوئی خبر نہیں ہے۔

وہ شخص جو موقعے پر سب سے پہلے پہنچا

وہ پولیس افسر جو کمپاؤنڈ پر حملے کے بعد وہاں سب سے پہلا پہنچا، ان کا کہنا ہے کہ ایبٹ آباد میں فوجی چھاؤنیاں ہیں اس لیے ایسی جگہوں پر ہیلی کاپٹر کا کریش ہونا شاذ و نادر واقعہ ہی سہی لیکن ممکنات میں ضرور شامل ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’رات کی تاریکی میں فوری طور پر ہم یہ نہیں سمجھ پائے کہ شعلوں میں لپٹا ہیلی کاپٹر پاکستانی تھا یا امریکی۔‘ انھیں وہاں روتے بلکتے بچے اور چیخ پکار کرتی خواتین ملیں۔

لیکن اس کے فوراً بعد کمپاؤنڈ پر فوج کا کنٹرول ہو گیا اور پولیس کو تفتیش کا موقع ہی نہیں ملا۔ آج تک یہ تفتیش فوج ہی کے ہاتھ میں ہے لیکن وہ اس بارے میں کچھ نہیں بتائےگي۔

وہ کہتے ہیں: ’یہ بہت ہی شرمندگی کا باعث تھا۔ ہم نہ تو یہ تسلیم کر پائے کہ اسامہ یہاں تھا اور نہ ہی انکار کر پائے۔ بہتر متبادل یہی ہے کہ اس پر خاموشی اختیار کی جائے۔‘

لیکن اس خاموشی سے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی سے متعلق بھوت کا ازلہ نہیں ہو پایا اور آج تک اس کے حوالے سے شدید ترین رازداری برتی جا رہی ہے۔

لیکن اس رات جو ہوا اس کے اثرات صرف ایبٹ آباد یا اس کمپاؤنڈ کے آس پڑوس تک ہی محسوس نہیں کیے گئے۔ اس کے بعد جو حال القاعدہ کا ہوا ہے شاید اس بارے میں اسامہ بھی اپنی قبر میں سوچ کر فکر مند ہوں۔

اب مشرق وسطیٰ اور کئی افریقی ملکوں میں القا‏عدہ کی جگہ دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کا غلبہ ہے۔

افغانستان اور پاکستان کا علاقہ جہاں کئی انتہا پسند اسلامی تنظیموں کا بول بالا رہا ہے، وہاں القا‏عدہ خاص طور پر بڑی طاقت ور تنظیم تھی، لیکن اب وہاں اس کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔

اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ اب اس کی قیادت میں نہ تو فوجی صلاحیت ہے اور نہ ہی اس میں بات کرنے کا وہ ہنر ہے جو بن لادن کے پاس تھا۔ اسی لیے موجودہ قیادت پہلی جیسی رغبت اور وفاداری کا جذبہ پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ممکن ہے کہ موجودہ تبدیل شدہ سکیورٹی کی صورت حال کے سبب بھی ایسا ہوا ہو۔

اسامہ کا کمپاؤنڈ پاکستانی فوج اکیڈمی کے بالکل قریب واقع تھا جس سے یہ قیاس آرائیاں ہونے لگیں کہ اسامہ کو اتنا خفیہ مقام مہیا کرنے میں کہیں سکیورٹی کا ہاتھ تو نہیں تھا۔

پاکستانی فوج کے لیے بھی یہ واقعہ شرمندگی کا با‏عث بنا جس نے ملک کی سلامتی پالیسی بدل کر رکھ دی۔

سکیورٹی ایجنسیوں نے اس معاملے پر زیادہ تر خاموشی اختیار کی اور اس علاقے پر اس لیے سخت نظر رکھی گئی کہ یہاں سے خبریں باہر جانے نہ پائیں۔ ایک افسر کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ خبریں میڈیا اور خاص طور پر بیرونی صحافیوں کے ہاتھ نہ لگنے پائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امریکہ اور پاکستان کے حکام نے یہ بات کھل کر کہی ہے کہ پاکستانی حکام کو یہ علم نہیں تھا کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں موجود تھے، لیکن بہت سے لوگ اس بات سے متفق نہیں ہیں۔

امریکی صحافی سیمور ہیرش کا کہنا ہے کہ اسامہ 2006 ہی سے پاکستان کی حراست میں تھے اور امریکہ کے ساتھ ایک معاہدہ طے پانے کے بعد انھیں ہلاک کر دیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ امریکی ہیلی کاپٹر تقریباً دو سو کلو میٹر پاکستان کے اندر پرواز کرتے ہوئے آئیں اور پھر کارروائی کرنے کے بعد اتنے ہی فاصلے تک واپس جائیں اور کسی کو ان کا پتہ تک نہ چل پائے۔

بعض آزاد تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ممکن ہے کہ پاکستانی حکومت اسامہ سے متعلق آگاہ نہ ہو لیکن اس بات سے انکار کرنا شاید مشکل ہو کہ کچھ سینیئر حکام کو اس کا علم تھا۔

جو بھی ہو ایبٹ آباد کے اس چھوٹے سے محلّے میں اس رات کو جو کچھ بھی ہوا اس سے نہ صرف اس کے آس پڑوس کے لوگوں کی زندگیاں بدل گئیں بلکہ اس کے اثرات عالمی امور بھی مرتب ہوئے اور ہم سب یہ دیکھ رہے ہیں۔

اسی بارے میں